براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 115
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 115 مقدمے میں داد و تحسین نچھاور کرتے ہیں۔اس عدم ایفائے عہد کا ذکر تک نہیں کرتے ہیں۔حضرت محمد مصطفی صلی ال نیم کے شایان شان Able Uncultivated کا ترجمہ کرنا جو مناسب و حسب حال ہے وہ یوں کرنا چاہیے تھا: “اگر چہ آنحضرت علی الم تربیت یافتہ نہیں تھے لیکن سخت ذہین و فطین تھے۔" 6-3- الجواب: چھٹی صدی کے اتنی دلیل اثبات نبوت محمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود مہدی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ کی تمہید ہفتم میں حضرت محمد رسول کریم صلی الی یوم کے اُمی ہونے کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: قرآن شریف میں جس قدر باریک صداقتیں علم دین کی اور علوم دقیقہ الہیات کے اور براہین قاطعہ اُصولِ حقہ کے معہ دیگر اسرار اور معارف کے مُندرج ہیں اگر چہ وہ تمام فی حد ذاتہا ایسے ہیں کہ قوی بشریہ اُن کو بہ ہیئت مجموعی دریافت کرنے سے عاجز ہیں اور کسی عاقل کی عقل ان کے دریافت کرنے کے لئے بطور خود سبقت نہیں کر سکتی کیونکہ پہلے زمانوں پر نظر استقراری ڈالنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ کوئی حکیم یا فیلسوف اُن علوم و معارف کا دریافت کرنے والا نہیں گزرا۔لیکن اس جگہ عجیب بر عجیب اور بات ہے یعنے یہ کہ وہ علوم اور معارف ایک ایسے اقی کو عطا کی گئی کہ جو لکھنے پڑھنے سے نا آشنا محض تھا جس نے عمر بھر کسی مکتب کی شکل نہیں دیکھی تھی اور نہ کسی کتاب کا کوئی حرف پڑھا تھا اور نہ کسی اہل علم یا حکیم کی صحبت میسر آئی تھی بلکہ تمام عمر جنگلیوں اور وحشیوں میں سکونت رہی اُنہیں میں پرورش پائی اور انہیں میں سے پید اہوئے اور انہیں کے ساتھ اختلاط رہا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمّی اور ان پڑھ ہونا ایک ایسا بد یہی امر ہے کہ کوئی تاریخ دان اسلام کا اُس سے بے خبر نہیں "11 اس تمہید میں آگے رقم فرماتے ہیں:۔“۔۔۔جو عیسائیوں اور یہودیوں میں اہل علم اور صاحب انصاف تھے کہ جب وہ ایک طرف آنحضرت کی حالت پر نظر ڈال کر دیکھتے تھے کہ محض اُقی ہیں کہ تربیت اور تعلیم کا ایک نقطہ بھی نہیں سیکھا اور نہ کسی مہذب قوم میں بود و باش رہی اور نہ مجالس علمیہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔اور دوسری طرف وہ قرآن شریف میں صرف پہلی کتابوں کے قصے نہیں بلکہ صدہا بار یک صداقتیں دیکھتے تھے جو پہلی کتابوں کی مکمل اور متمم تھیں تو آنحضرت کی حالت اُمیّت کو سوچنے سے اور پھر اس تاریکی کے زمانہ میں ان کمالات علمیہ کو دیکھنے سے نیز انوار ظاہری و باطنی کے مشاہدہ سے نبوت آنحضرت کی ان کو اظہر من الشمس معلوم ہوتی تھی اور ظاہر ہے کہ اگر اُن مسیحی فاضلوں کو آنحضرت کے اقی اور موید من اللہ ہونے پر یقین کامل نہ ہو تا تو ممکن نہ تھا کہ وہ ایک ایسے دین سے جس کی حمایت میں ایک بڑی سلطنت قیصر روم کی قائم تھی اور جو نہ صرف ایشیا میں بلکہ بعض حصوں یورپ میں بھی پھیل چکا تھا اور بوجہ اپنی مشرکانہ تعلیم کے دنیا پرستوں کو عزیز اور پیارا معلوم ہو تا تھا صرف شک اور شبہ کی حالت میں الگ ہو کر ایسے مذہب کو قبول کر لیتے جو بباعث تعلیم توحید کے تمام مشرکین کو برا معلوم ہو تا تھا اور اُس کے قبول کرنے والے ہر وقت چاروں طرف سے معرض ہلاکت اور بلا میں تھے پس جس چیز نے ان کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیر اوہ یہی بات تھی جو انہوں نے آنحضرت کو محض اُمّی اور سراپا موید من اللہ پایا اور قرآن شریف کو بشری طاقتوں سے