براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page xiii of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page xiii

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام vi عبد الحق صاحب مرحوم سے قطعاً کوئی رقابت یا پر خاش نہیں ہے۔بلکہ میں موصوف کی اردو زبان کے لئے خدمات کا دل سے اعتراف کر تا ہوں۔ناچیز کی اس کتاب سے قبل "حیات احمد " کے فاضل مصنف جناب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اس اعتراض کی تردید میں کتاب مذکور میں مناسب جواب دیا ہے اور مولوی عبد الحق صاحب سے خط و کتابت بھی کی تھی (ملاحظہ ہو کتاب ہذا کا مقام پیر انمبر 3-1 اور 9-2) لیکن عرفانی صاحب نے اس پر کوئی موازنہ قائم نہ کیا تھا، جو ان کی کتاب کے منشاء کے خلاف تھا۔لیکن اس پیچ مدان نے علاوہ دیگر امور کے ایک عمومی اور ایک خصوصی موازنہ بمع نتیجہ کلام بھی پیش کیا ہے ( ملاحظہ ہو بالخصوص باب پنجم و ششم) تا کہ اس اعتراض کا مکمل جواب سامنے آجائے۔قارئین کرام کے ہاتھوں میں جو کتاب ہے اس کے لکھنے کا پہلے پہل خیال مجھے 1970ء کی دہائی کے ابتداء میں آیا جب میں سنٹرل لائبریری بہاولپور میں محمد یحی تنہا کی کتاب "سیر المصنفین " کو دیکھ رہا تھا۔جس میں اس اعتراض کو مولوی عبدالحق کے مقدمہ " اعظم الکلام " کے حوالے سے نقل کیا گیا تھا۔انہی دنوں میں میری نظر سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفۃ المسیح الثانی) کی تقاریر کا مجموعہ "فضائل القرآن "گزرا جس میں اس اعتراض کا ایک اصولی جواب موجود تھا۔اس کی روشنی میں میں نے اس موضوع پر مطالعہ اور تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا۔لیکن بڑے شہروں سے دوری کے بسبب متعلقہ کتب میسر نہ آسکیں اسی طرح چند در چند اسباب کی وجہ سے کتاب معرض تعویق میں رہی۔1980ء کی دہائی کا ہی کوئی سال تھا کہ بفضلہ تعالیٰ اس احقر العباد نے حضرت اقدس مسیح موعود کو خواب میں اپنے گھر میں صوفے پر تشریف فرما دیکھا کہ میں آپ کی خدمت میں پیش ہوں۔ابھی میں نے کوئی کتاب لکھنی شروع نہیں کی تھی البتہ ایسا ارادہ رکھتا تھا اور اس بارے میں سوچتا رہتا تھا۔لیکن حضرت اقدس مجھ سے میری لکھی جانے والی کتاب یا مضمون کے بارے میں کچھ پوچھتے رہے جو اب مجھے ٹھیک سے یاد نہیں ہے لیکن صرف یہی یاد ہے کہ حضرت نے بڑے تلطف سے لکھی جانے والی کتاب یا مضمون کے بارے میں مختصر باتیں کیں تھیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس زیارت میں کتاب لکھے جانے کی بشارت شامل تھی سو الحمد اللہ کہ کتاب لکھی گئی ہے۔جس کے بارے میں ناچیز نے اپنے ایک مضمون مطبوعہ ماہ نامہ "انصار اللہ ربوہ براہین احمدیہ نمبر (فروری 1998ء) صفحہ 105 پر الگ کتابی شکل میں شائع کروانے کا عندیہ ظاہر