براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page xii
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام پیش لفظ V بابائے اردو مولوی عبدالحق نے جب 1910ء میں مولوی چراغ علی کی ایک انگریزی کتاب پروپوزڈ پولیٹیکل لیگل اینڈ سوشیل ریفارمز انڈر مسلم رول کا اردو ترجمہ " اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام " کے نام سے شائع کیا تو اس میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود کے دو خطوط (جو مولوی چراغ علی کے بلا طلب دس روپے کے نوٹ برائے اشاعت براہین احمدیہ بھجوائے گئے تھے ) کو چار خطوط بنا کے کتاب کے مقدمہ میں عبارتوں کو آگے پیچھے کر کے چھاپ دیئے اور نتیجہ نکالا کہ حضرت مرز اصاحب نے مولوی چراغ علی سے جیسے تصنیف کتاب براہین احمدیہ میں کوئی علمی مدد لی ہو۔مولوی عبدالحق نے نہ صرف اعظم الکلام " کے ترجمے میں تحریف و تدلیس کی تھی بلکہ اس جعل سازی میں بھی باوجود غیر جانبدار اور بے تعصب مشہور ہو کر حسب عادت مولوی چراغ علی کی شخصیت کو اجاگر کرنے کیلئے بد دیانتی اور کردار کشی کا ثبوت دیا ہے۔مولوی عبدالحق صاحب کو خود تسلیم تھا کہ ان کا مذہب کے بارے میں علم جہل سے بدتر ہے " ( ملاحظہ ہو کتاب ہذا میں پیرا نمبر (3-2) تو پھر بھی آپ کا مذہب سے متعلق امور کے بارے میں اڑنگے مارنا نہایت غیر مناسب بات ہے۔جو مولوی عبد الحق ایسی شخصیت کو بہر کیف زیب نہیں دیتی تھی۔مولوی عبدالحق کی اس ترجمے میں تحریف و تدلیس، اسی طرح خطوط کے درج کرنے میں اور ان سے نتائج کے استخراج میں بلا ثبوت بد دیانتی کو زیر نظر کتاب میں طشت از بام کیا گیا ہے۔علاوہ متعدد ناقلین مولوی عبدالحق کے ، پروفیسر معین الدین عقیل صاحب مصنف کتاب "تحریک پاکستان میں اردو کا حصہ " میں بھی آپ نے اس اعتراض کا ذکر کیا ہے۔موصوف نے ناچیز کے نام اپنے مکتوب مورخہ 12 مارچ2012ء میں کتاب زیر نظر کے مسودہ کو دیکھنے کے بعد تحریر کیا ہے:۔“۔۔۔اس طرح ایک غلط فہمی اور کذب بیانی کی تردید ہو جاتی ہے۔۔۔" فهو المطلوب(ملاحظہ ہو کتاب ہذا میں پیر انمبر 3-8) جیسا کہ کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے کہ محولہ بالا مقدمہ کے براہین احمدیہ سے متعلق اندراجات کو ہی زیر بحث لایا گیا ہے۔یہاں اس امر کو شروع ہی میں واضح کر دیناضروری ہے کہ اس ہیچمدان کو مولوی