براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page xiv
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام کیا تھا۔vii 1990ء کی دہائی کے نصف اواخر پر میں نیشنل بنک آف پاکستان ربوہ میں بطور منیجر تعینات تھا۔انہی دنوں ابتداء میں نے اس کتاب کو لکھنا شروع کیا۔تقریباً کوئی ستر (70) صفحات لکھ کر مسودہ جناب سید عبد الحئی شاہ صاحب ناظر اشاعت کی خدمت میں پیش کیا تو شاہ صاحب کی طرف سے جواب موصول ہوا: " نظارت کو اس کی اشاعت پر اصولی طور پر کوئی اعتراض نہیں"۔(20 اپریل 1998ء) اس سے قبل یہ مسودہ استاذی المکرم جناب ثاقب زیر وی صاحب کی خدمت میں بھجوا چکا تھا اور موصوف کی طرف سے جواب موصول ہوا: " آپ نے ماشاء اللہ بڑی محنت کی ہے۔عرق ریزی سے کام لیا ہے۔۔۔اس خدمت سلسلہ کے لئے مبارکباد وصول فرمائیے۔اللهم زد فزد (21 اگست 1997ء) لیکن اس وقت تک لکھے گئے مواد میں مزید اضافے کی خواہش تھی۔جسے اضافے کے بعد گرامی قدر مکرم مسعود احمد خان دہلوی کی خدمت میں ایک نظر دیکھنے کیلئے پیش کیا گیا تو موصوف نے لکھا: " بہت وسیع مطالعہ اور علمی مشقت کا آئینہ دار آپ کا ضخیم مقالہ۔۔۔میں نے اول سے آخر تک پڑھا۔آپ کے وسیع مطالعہ کی داد دیئے بغیر نہ رہا۔۔۔" ( نا چیز کے 27 مارچ 2011ء کے عریضے کے جواب میں) اس اجازت اور ستائش کے باوصف اس وقت بھی کتاب کے نفس مضمون میں، میں کمی محسوس کر رہا تھا۔جسے ایک حد تک پورا کر کے موجود شکل میں کتاب پیش خدمت ہے۔قیام ربوہ کے دور سے تا ایں دم مشفقی سید مبشر احمد ایاز صاحب اور ان کے فاضل عملہ کمپوزنگ کا بھر پور تعاون میرے شامل حال رہا ہے۔آخری کمپوزنگ کے مراحل میں عزیز مکرم عامر سہیل اختر صاحب، پر وفیسر نصیر حبیب صاحب لندن برائے اہم حوالہ جات اور سر ورق کے لئے عزیزہ محترمہ تسنیم حفیظ صاحبہ کا ، اسی طرح مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب سے بھی گاہے ماہے موضوع زیر بحث کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوتی رہی ہے۔ناچیز ان احباب کی معاونت کا از حد شکر گزار ہے۔" اعظم الکلام " کے انگریزی متن کی عکسی نقول ناچیز کو مشفقی حنیف محمود صاحب نے مہیا کی ہیں اور " تحقیق الجہاد" کے انگریزی متن کی عکسی نقول میرے بیٹے ڈاکٹر محمد عبد النور نے بہم پہنچائی ہیں۔خدا بخش اور نشیئل لائبریری پٹنہ انڈیا کے ڈائریکٹر جناب امتیاز احمد صاحب کا بھی یہ احقر شکر گزار ہے کہ انہوں نے مولوی چراغ علی کی