براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 114 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 114

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 114 نا قابل ” میں کیونکر بدل دیا؟ اسی طرح لفظ uncultivated جو عموماً اراضی کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کا ترجمہ “ غیر مزروعہ ، ناکاشتہ اور غیر آباد کیا جا سکتا ہے اور جب انسانوں کے لئے استعمال کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ اس کا ترجمہ “ غیر تعلیم یافتہ ” کیا جا سکتا ہے۔لیکن “نا تربیت یافتہ کا ترجمہ مولوی عبدالحق صاحب کی “مولوی اور مسلمان کہلا کر ایک مذموم جسارت ہے۔جس کے لیے مولوی عبد الحق صاحب کو ہزاروں مرتبہ سوچنا چاہئے تھا۔موصوف کی اُردو زبان کی ترقی و ترویج میں خدمات کا اپنا ایک مقام سہی لیکن اُن کا یہ غیر محتاط رویہ کسی طور قابل ستائش نہیں بلکہ لائق صد نفریں ہے۔اسی طرح Bedouin خانہ بدوشی کے ساتھ وابستہ ہے جبکہ آنحضرت علی علیم مکہ و مدینہ کی شہری زندگی گزارتے تھے نہ کہ خانہ بدوش اور بدوی زندگی۔آپ بنو ہاشم میں سے تھے جو کسی صورت میں بدوی قبائل میں سے نہ تھا۔لیکن مولوی عبد الحق نے ترجمہ کرتے ہوئے ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا۔اور پادری سے بڑھ کر دریدہ دہنی کی ہے۔بلکہ مولوی عبد الحق صاحب نے اس ترجمے میں اس قسم کے الفاظ آنحضرت صلی للی یکم کے بارے میں لکھ دیئے ہیں جو پادری میکال اور اس کے ہم نوا مصنفین نے نہیں لکھتے ہیں۔مولوی عبد الحق صاحب کے اس کتاب کے مقدمے کے ان الفاظ میں اور موصوف کے ترجمے میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔لکھتے ہیں: " میکال اور ان کے بعض ہم نوایور پین مصنفین کا یہ کہنا کہ اسلام اپنے پیروؤں کو چھٹی صدی کے بدوؤں سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دیتا اور مسلمان کبھی ترقی نہیں کر سکتے جب تک وہ مذہب اسلام کو ترک نہ کر دیں۔" 1" اس پر مستزاد مولوی چراغ علی صاحب کا یہ عندیہ کہ: “اب میں (بقول ریورنڈ موصوف ) مذہب اسلام کے ان تین لا علاج عیوب پر نظر ڈالوں گا۔” اور کتاب میں اس وعدہ اور منصوبہ کے باوصف نہ تو مصنف (مولوی چراغ علی ) مترجم (مولوی عبد الحق) اور نہ ہی مشتہر (مولوی عبد اللہ خان حیدرآباد دکن کتب خانہ آصفیہ ) متنبہ ہوتے ہیں اور توجہ دیتے ہیں کہ بقول پادری میلکم میکال “اسلام کے تین لا علاج عیوب ” میں سے اول کا جواب مولوی چراغ علی نے دے دیا اور مولوی عبد الحق نے ترجمہ کر دیا لیکن عیب دوم کو چھواتک نہیں گیا۔البتہ عیب سوم ” کے بارے میں مشتہر مولوی عبد اللہ خان نے نوٹ دیا ہے کہ : دو مر تد کی سزائے موت پر حصہ اول میں بحث ہو چکی ہے۔عبد اللہ 8 عیب اول ” کا ذکر اسی کتاب کے صفحہ 2 سے 84 تک ممتد ہے۔جس میں عورتوں کی حالت ” کے تحت تعدد زوجات ”، “طلاق”، “ غلامی ”اور “ تسری ” کے عناوین قائم کر کے جواب لکھا گیا ہے۔اور آخری صفحہ نمبر 84 پر “ خاتمہ ” کے تحت مولوی چراغ علی نے ان ہی خرابیوں کی طرف نشاندہی کی ہے لیکن “ عیب دوم کا ذکر نہیں کیا۔جس کا انہوں نے میلکم میکال کے اقتباس کو درج کر کے نظر ڈالنے کا وعدہ کیا تھا۔پس مولوی چراغ علی صاحب اثبات نبوت محمدیہ کیونکر ثابت کر سکتے ہیں جو صرف آنحضرت پر اعتراض تو درج کرتے ہیں لیکن اُس کا جواب دینے کا وعدہ کر کے جواب نہیں دیتے ! البتہ اس اعتراض کے مترجم اِسے اور گھمبیر صورت میں درج کرتے ہیں۔جیسے کہ حوالہ نمبر 2-6 میں درج کیا گیا ہے جس کے آخر میں مولوی عبدالحق کی اسلامی حمیت کچھ جاگتی بھی ہے اور لکھتے ہیں: " کیا مسٹر میکال اور ان کے دوست بھول گئے ہیں کہ موجودہ ترقی اور تمدن کی بنیاد اہل اسلام ہی کی ڈالی ہوئی ہے۔۔۔2 لیکن اپنے ممدوح مولوی چراغ علی کے باوجو د وعدہ " اب میں (بقول ریورنڈ موصوف ) مذہب اسلام کے ان تین لاعلاج عیوب پر نظر ڈالوں گا"۔11 کو نظر انداز کر کے