براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 106
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 106 میں نے تئیس برس تک سید صاحب کی تصانیف کو پڑھا اور خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ سید صاحب کے ہم آواز ہونے کے ایام میں میں منافق یا مقلد نہ تھا۔میرے احباب خوب جانتے ہیں کہ اخلاص و سرگرمی سے ان خیالات کی تائید کرتا۔اور عالم السر والعلن گواہ ہے کہ اس وقت بھی نیک نیت اور رضائے حق مطلوب تھی۔مارچ 1889ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شرف بیعت حاصل کیا۔1891ء میں آپ کی پاک صحبت میں علوم و حقائق مجھ پر منکشف ہوئے کہ میرے سینے کو لوث اغیار سے صاف دھو ڈالا میں اپنے ذاتی تجربہ اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ سید صاحب مرحوم کے مذہبی خیالات خدائے ذو العجائب کے پانے کی راہ میں خطرناک روک ہیں۔کاش وہ جو اس زہر سے ناواقف ہیں اور شیر شیریں کی طرح مزے لے لے کر پی رہے ہیں ایک تجربہ کار کی سنیں۔میں نے دونوں راہیں خوب دیکھی ہیں اس لئے مجھے حق پہنچتا ہے کہ میں ایک ناصح شفیق ہادی کی صورت میں ناواقفوں کو آگاہ کروں کہ ضلالت سے بیچ جائیں۔"72 حضرت مولوی عبد الکریم سیالکوٹی کے نزدیک حضرت مرزا صاحب نے وفات مسیح کے بارے میں کیا کام کیا وہ درج ذیل ہے :۔کتاب حکیم نے حضرت عیسی کی توفی کی بحث چھیڑی ہے اور اس توفی عیسی کی توضیح و تائید کے لئے اس لفظ تو فی کو متعدد مقامات میں کتاب کے ذکر کیا ہے اور ان میں موت کے ایک ہی معنے کر کے حضرت عیسی کی موت پر ابدی مہر لگا دی ہے۔غرض اس باطل کے استیصال کے طریقوں میں اس طریق کی کمی اور بڑی بھاری کمی تھی جسے حضرت مامور (یعنی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی) نے پورا کیا۔73 جبکہ سرسید تحریک کے متکلمین میں یہ امر موجود نہیں ہے اس کے علاوہ سرسید تحریک اور حضرت مرزا صاحب میں وفات مسیح پر جو فرق ہے ملاحظہ ہو۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی بیان فرماتے ہیں:۔بعض لوگ اس دھوکے میں ہیں کہ اس سے پیشتر سر سید نے ہی وفات مسیح کے متعلق اپنی رائے ظاہر کی اور مضمون لکھا مگر واضح ہو کہ سرسید سے پہلے بہت سے حکمائے یورپ بھی یہی رائے ظاہر کر چکے ہیں۔فضلائے یورپ کی کتابیں اس بارہ میں موجو د ہیں اور ہر ایک آزاد خیال اور نیچر میں غور کرنے والا بلالحاظ کسی کتاب کے گواہی کے بالبداہت اس کی کجھیل و تحمیق پر آمادہ ہو جاتا ہے جو کسی شخص کی ایسی انوکھی زندگی کا قائل ہو۔جناب سید بھی طبعاً اس بات سے گھبر اجاتے ہیں جس سے یورپ کے فلسفی گھبر اتے ہیں اور بیزار ہوتے ہیں۔ضرور تھا کہ عاد تأسید صاحب بھی اس پر سرسری کچھ کہتے۔74 مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی مزید لکھتے ہیں کہ : اصل یہ ہے کہ سرسید اور آپ کے ہمخیالوں کا یہ شائع شدہ اصول ہے کہ مذہبی جھگڑوں میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں اس سے قوموں میں بغض کینے اور فساد پید اہوتے ہیں۔چونکہ سرسید میں الہی جوش نہ تھا اور نہ مامور من اللہ تھے اور صرف معمولی تحریکات کے نیچے آکر مذہب کے متعلق بحث کیا کرتے تھے اس لئے فطرتاً ان کو ایسی ہمدردی اور ایسا جوش اسلام کے ساتھ نہیں ہو سکتا تھا۔جو ایک مامور من اللہ اور سچے مجد د کے دل میں پید اہوتا ہے۔"15 سرسید کا مسئلہ توفی کی نسبت بحث کرنا چونکہ دینی سچی غیرت اور نبیوں اور صالحوں کے سے عزم اور ظلم عظیم کی بیخ کنی کے لئے پورے عقد ہمت اور اسلام کو دین باطل پر غالب کرنے کی بیقرار کر دینے والی غیرت کے تقاضا پر مبنی نہ تھا لہذا انہوں نے عام حکیمانہ رنگ میں اور بالکل سرسری طور پر اس مسئلہ کو عام قانون قدرت کے ساتھ موافق کرنے کے لئے معمولی بحث کر دی سید صاحب نے اس مسئلہ پر قائم رہنے کے لئے کوئی استقلال نہیں دکھایا۔اور نہ اس کی اشاعت کی دھت انہیں لگی اور نہ انہوں نے بجز تفسیر کے محدود دائرہ کے کسی اور وسیع تحریر کے ذریعہ اس کو شائع کیا۔انہوں نے اس مسئلہ پر اتنا بھی بلکہ عشر عشیر بھی زور نہیں دیا جتنا ناخلف بیٹے کی خلافت پر زور دیا اور خوارج کے مقابل شدتِ طیش سے فرمایا کہ وہ ان سے فرانس میں جا کر ڈویل لڑنے کو تیار ہیں۔اور یہ ایک بھاری اور نا قابل عفو نقص ہے جس کی وجہ سے سرسید کو ذرا بھی اس اصلاح کا حق نہیں دیا جا سکتا جو ایک خدا کا بندہ خدا میں ہو کر کرتا ہے۔76 اس کے