براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 105 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 105

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 105 حضرت عیسیٰ نہ تو تلوار یا پتھروں سے مار ڈالے گئے اور نہ صلیب پر مارے گئے لیکن اُن کے قتل کرنے والوں کو دھوکا ہو گیا یا اُن سے اصل بات پوشیدہ ہو گئی یا ان کو حضرت عیسی کی موت کا تشابہ ہو گیا حالانکہ وہ یقینا مرے تھے البتہ تین گھنٹہ تک صلیب پر اذیت سے لٹکتے رہے اور پھر اتار لئے گئے۔صلیب پر مصلوب ہونے سے جلدی کوئی شخص نہیں مر جاتا۔بلکہ کئی روز تک لٹکنے سے دھوپ کی تپش اور بھوک کی شدت اور زخموں کی تکلیف سے البتہ مر جاتا ہے۔یہ معاملہ حضرت عیسی کے ساتھ نہیں ہوا۔اور جب وہ اتار کر قبر میں رکھے گئے تو ان کو کہ وہ ابھی غشی میں تھے بعض مخلص مومنین شب کو مقبرہ سے نکال کر گھر میں کہیں پوشیدہ لے گئے اور پھر حضرت عیسی، بعض حواریوں کو زندہ نظر آئے مگر یہود کی عداوت اور رومیوں کے اندیشہ سے کہیں دیہات میں اپنے قرابت داروں کے ساتھ رہتے تھے پھر خدا نے ان کو اٹھالیا یعنی اپنی طبعی موت سے مر گئے اور خدا کے پاس چلے گئے اور اس کے داہنے ہاتھ جگہ پائی۔یہ دونوں باتیں مجازاً اور فضیلت کہی جاتی ہیں۔جو لوگ سمجھتے تھے کہ ہم نے اُن کو مار ڈالا۔قرآن مجید اُن کو جھٹلاتا ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اُن کی صورت کا ایک دوسرا آدمی پکڑ اگیا اُن کو بھی قرآن مجید جھٹلاتا ہے اور کہتا ہے کہ اُن کو علم قطعی نہیں ہے۔انکل پر چلتے ہیں اور پھر اصلی حقیقت بتلاتا ہے کہ اصل بات ایسی چھپ گئی یا پوشیدہ کی گئی۔" مولوی چراغ علی کے اس خیال کے بارے میں قاضی جاوید صاحب لکھتے ہیں کہ “ ان ہی ایام میں مولوی چراغ علی نے پادری عماد الدین کی تاریخ محمد می ”میں پیش کئے گئے اعتراضات کے رد میں ایک رسالہ تعلیقات " کے عنوان سے لکھا۔جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ حضرت عیسی کے حالات زندگی انتہائی ناقابل اعتبار ہیں اور عیسائیوں کی مذہبی کتب بھی مصدقہ نہیں۔تعلیقات کے علاوہ انہوں نے چند دیگر رسائل اور مضامین بھی ایسے ہی موضوعات پر رقم کئے تھے (بحوالہ۔عبدالحمید رضوانی، مولوی چراغ علی، مقالہ برائے امتحان ایم۔اے (اُردو) پنجاب یونیورسٹی 1971ء ص 3)۔ان میں مرزا غلام احمد کے اثرات محسوس کئے جاسکتے ہیں۔10 69,9 ان مسائل میں مولوی چراغ علی کا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب سے اثر قبول کرنا خود معترض بیان کر رہے ہیں لیکن یادر ہے کہ یہ بات انہوں نے بلا معین حوالہ کے لکھی ہے جبکہ براہین احمدیہ میں تو اس کے الٹ لکھا ہوا ہے پھر مدد کیسی؟! چہ جائیکہ وہ کوئی مدد دیتے۔مولوی چراغ علی مذکورہ مضمون کے آخر میں حضرت عیسی اور ان کی والدہ حضرت مریم کے بارے میں اپنی عدم واقفیت کا یوں اظہار کرتے ہیں:۔“أن ( یعنی حضرت عیسی) کی وفات کی خبر بہت صاف ہے۔مگر یہ بات کہ وہ کب مرے اور کہاں مرے معلوم نہیں جیسے کہ حضرت مریم کا حال پھر کچھ نہ معلوم ہوا حالا نکہ حضرت عیسی نے ان کو یو حنا حواری کے سپرد کیا تھا اور یوحنا حواری صاحب تصنیفات بھی تھے پھر بھی کچھ حال ان کا نہیں لکھا اور حضرت مسیح تو دشمنوں سے پوشیدہ دور کے دیہات میں چلے گئے تھے۔71 اس کے بر عکس حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی کتاب " مسیح ہندوستان میں ” میں ملاحظہ ہو جس میں حضرت عیسی کے احوال سے متعلق تمام امور بتفصیل درج ہیں۔مولوی چراغ علی سرسید گروپ کے پُر جوش مبلغ تھے۔مولوی صاحب کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ تھے جو سر سید کے ہمنوا تھے مگر حضرت مرزا صاحب کے علم کلام سے واقفیت کے بعد بہت سے اہل علم حضرت مرزا صاحب کے ساتھ آشامل ہوئے ان میں سے ایک صاحب مولوی عبد الکریم سیالکوٹی بھی تھے آپ اپنے سرسید اور حضرت مرزا صاحب کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :۔