براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 107
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام بارے میں حضرت مرزا صاحب بیان فرماتے ہیں: 107 قرآن شریف سے جب مسیح ناصری کی وفات ثابت ہے تو ضرور ہے کہ آنے والا اسی اُمت میں سے کوئی ہو۔۔۔وہ لوگ جو نیچری ہیں ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ ابتلاء سے بچ گئے کیونکہ وفات مسیح کے تو وہ قائل ہی ہیں اور مسیح موعود کا ذکر اس قدر تو اتر رکھتا ہے۔۔۔اس لئے ایک عظمند اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ مسیح آئے گا۔77 اگر مولوی چراغ علی کی مدد کا معاملہ ہوتا تو شروع ہی سے براہین احمدیہ میں وفات مسیح کا مسئلہ ہو تا۔اس بات کا نہ موجود ہونا اس بات پر پکی دلالت کرتا ہے کہ مولوی عبد الحق نے حضرت مرزا صاحب پر بہتان تراشا ہے کیونکہ مولوی چراغ علی صاحب کا مضمون “حضرت عیسی مسیح ابن مریم رسول اللہ اور صلیب ” جمادی الاولی 1293ھ (1876ء) میں سرسید کے رسالے “تہذیب الاخلاق ” میں شائع ہو چکا تھا جبکہ محولہ خطوط 1879ء کے ہیں اور براہین احمدیہ 1880-1884ء کی ہے۔فتد بریا اولی الابصار۔اگر براہین احمدیہ کی تصنیف میں کسی علمی مدد کا معاملہ ہو تا تو وفات مسیح کی بات وہیں سے شروع ہو چکی ہوتی جو اس کے بر عکس ہے جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے۔یہ سن اشاعت ڈاکٹر منور حسین نے اپنی کتاب “مولوی چراغ علی کی علمی خدمات مطبوعہ خدا بخش اور کینٹل پبلک لائبریری پٹنہ انڈیا مطبوعہ 1997ء کے صفحہ 64 پر بھی درج کیا ہے۔چونکہ مولوی چراغ علی اور سرسید میں الہی جوش نہیں تھا۔انہوں نے عام حکیمانہ رنگ میں اور بالکل سرسری طور پر اس مسئلہ کو عام قانون قدرت کے ساتھ موافق کرنے کے لیے معمولی بحث کر دی ہے۔اُن کی اس بحث سے کیا کوئی عیسائی مسلمان ہوا ہے ؟ اُن کو اس اصلاح کا حق نہیں دیا جا سکتا جو ایک خدا کا بندہ خدا میں ہو کر کرتا ہے۔کیونکہ اس کام کے لیے ایک بہادر کے دست و بازو کی احتیاج ہے جو ایک نبی کی صفت ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں: قرآن شریف اس ذوالفقار تلوار کی مانند ہے جس کے دو طرف دھاریں ہیں ایک طرف کی دھار مؤمنوں کی اندرونی غلاظت کو کاٹتی ہے اور دوسری طرف کی دھار دشمنوں کا کام تمام کرتی ہے۔مگر پھر بھی وہ تلوار اس کام کے لیے ایک بہادر کے دست و بازو کی محتاج ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب۔۔۔(آل عمران : 165) پس قرآن سے جو تزکیہ حاصل ہوتا ہے اُس کو اکیلا بیان نہیں کیا۔بلکہ وہ نبی کی صفت میں داخل کر کے بیان کیا۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام یوں ہی آسمان پر سے کبھی نازل نہیں ہوا بلکہ اس تلوار کو چلانے والا بہادر ہمیشہ ساتھ آیا ہے جو اس تلوار کا اصل جو ہر شناس ہے۔" 78 لہذا اس مسئلہ کا حل بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے ہوا ہے جو دوسروں کی سرسری باتوں سے بالا تر ہے۔چونکہ آپ ہی اصل جو ہر شناس ہیں۔حوالہ جات 5-1 1 اردو ادب کی تحریکیں صفحہ 351ڈاکٹر انور سدید شائع کردہ: انجمن ترقی اردو پاکستان کر اچھی طبع دوم 1991ء 2 - ايضاً صفحه 358 3 -سیرت المہدی صفحہ 233 جلد سوم مصنفہ جناب مرزا بشیر احمد صاحب 4 - حقیقۃ الوحی صفحہ 298 مصنفہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی 5 کلیات آریہ مسافر مصنفه شریمان بیر پنڈت لیکھ رام جی مطبوعہ مہاشے کشیب دیو مینجر ستیہ دھرم پر چارک