براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 104 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 104

براہین احمدیہ مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 104 کتب آسمانی کے نزول کا اصل موجب ضرورت حقہ ہے یعنے وہ ظلمت اور تاریکی کہ جو دنیا پر طاری ہو کر ایک آسمانی نور کو چاہتی ہے کہ تا وہ نور نازل ہو کر اس تاریکی کو دور کرے۔۔۔۔۔۔اور وہی ظلمانی حالت تھی کہ جو آنحضرت صلی یم کی بعثت کے وقت اپنے کمال کو پہنچ کر ایک عظیم الشان نور کے نزول کو چاہتی تھی 62, قانون شریعت کا بنانے والا کون ہو سکتا ہے ؟ اس کے بارے میں حضرت مرزا صاحب کا براہین احمدیہ میں ہی یہ ارشاد بھی ملاحظہ ہو: “ انسان جو انواع اقسام کے جذبات نفسانی میں گرفتار ہے اور ہر یک لحظہ حرص اور ہوا کی طرف جھکا جاتا ہے وہ آپ ہی قانونِ شریعت کا واضع اور بنانے والا نہیں ہو سکتا بلکہ وہ پاک قانون اسی کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے کہ جو اپنی ذات میں ہر یک جذ بہ نفسانی اور سہو وخطا سے پاک ہے۔۔63 اس کے بارے میں حضرت مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کی ابتداء میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں اپنے منظوم کلام بہ زبان فارسی کیا خوب فرمایا ہے۔آن خداوندش بداد آں شرع و دیں۔کاں نگر در تا ابد متغیرے 64 ترجمہ : اس خدا نے اسے وہ شریعت اور دین عطا کیا جو کبھی بھی تبدیل نہیں ہو گا۔5-11 - کیا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے مولوی چراغ علی پر کوئی اثرات مترتب ہوئے تھے ؟ براہین احمدیہ کی تصنیف کے دوران جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں عام مسلمانوں کے رسمی عقیدہ کے مطابق تھا کہ آپ (حضرت عیسی علیہ السلام ):- انجیل کو ناقص کی ناقص چھوڑ کر آسمان پر جابیٹھے " 65" لیکن اس کے بعد حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے 1890ء کے آخر میں جب رسالہ “ فتح اسلام ”لکھا جو 1891ء کے اوائل میں چھپ کر شائع ہوا، اس میں آپ نے اعلان فرمایا کہ مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔اور فرمایا:۔مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں رنگین ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔وَ كَانَ وَعْدُ اللهِ مَفْعُولًا۔67" عیسائیوں کے بارے میں اپنی کتاب ازالہ اوہام میں آپ نے لکھا کہ :۔“ ان کے مذہب کا ایک ہی ستون ہے اور وہ یہ ہے کہ اب تک مسیح ابن مریم آسمان پر زندہ بیٹھا ہے۔اس ستون کو پاش پاش کر دو۔پھر نظر اٹھا کر دیکھو کہ عیسائی مذہب دنیا میں کہاں ہے چونکہ خدا تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اس ستون کو ریزہ ریزہ کرے اور یورپ اور ایشیا میں توحید کی ہو اچلا دے۔اس لئے اس نے مجھے بھیجا ہے اور میرے پر اپنا خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔68 مولوی چراغ علی صاحب کی نیچری خیالات کے پیش نظر خوش قسمتی ہے کہ وہ ابتلاء سے بچ گئے۔1876ء میں سر سید کے رسالہ تہذیب الاخلاق ” کے ایک مضمون “ حضرت عیسی ابن مریم رسول اللہ اور صلیب ” میں یہ لکھا کہ حضرت عیسی بجسده العفری آسمان پر زندہ نہیں اٹھائے گئے اور نہ ہی صلیب پر مر کر فوت ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے طبعی طور پر وفات پائی۔چنانچہ سورہ نساء ع 22 آیت 156 سے استدلال کرتے ہوئے لکھا: