براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 103
براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام اور تغیر و تبدل کی گنجائش نہیں۔۔۔۔۔59 103 مولوی چراغ علی صاحب نے خلاف منشاء مصنف حجۃ اللہ البالغہ محولہ بالا حوالہ تو درج کر دیا لیکن فقہ / شریعت کو مبنی بر قرآن نہیں مانتے ! کیا انہیں حضرت مجد دشاہ ولی اللہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی اسی حجۃ اللہ البالغہ کی یہ عبارت نظر نہیں آئی تھی جو مولوی چراغ علی کے غلط عقیدے کی تردید میں بلا تبصرہ درج ہے: حدود کی اصلیت متوارث چلی آتی ہے۔اسلام نے فقط ان کی اصلاح اور ترمیم کی ”۔“ ہم سے پہلے جو شریعتیں تھیں ان کا حکم یہ تھا کہ اگر کوئی شخص قتل کا مر تکب ہو تو اس کو قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے۔زنا کی سزا رجم مقرر تھی (رجم سنگسار کرنا، پتھر مار مار کر ہلاک کر دینا) چوری کے ارتکاب پر مجرم کا ہاتھ کاٹا جاتا، یہ تینوں سزائیں انبیاء علیہ السلام کی شریعتوں میں متوارث چلی آتی تھیں۔جملہ انبیاء سابقین کی شریعتوں میں ان جرائم کے لئے یہی سزائیں مقرر تھیں اور ان کی امتوں میں انہی احکام پر عملدرآمد تھا۔یہ حدود اور شرائع اس قابل تھے کہ شریعت محمدیہ میں بھی انہی کو بر قرار رکھا جائے۔اتنی بات ضرور ہے کہ شریعت ہذا نے ان کی مناسب اصلاح کی چنانچہ۔۔۔۔60 لیکن مولوی چراغ علی کو چار صدیوں تک یہ باضابطہ طور پر تحریری حالت میں مدون نہیں ملتی۔یہاں بے جانہ ہو گا کہ فقہ / شریعت کی تھوڑی سی وضاحت کر دی جائے: “فقہ سے مراد وہ الہی قوانین ہیں جن کا تعلق انسانی افعال سے ان معنوں میں ہے کہ ایک عاقل بالغ سمجھدار انسان کیا کرے اور کیا نہ کرے یا اس نے جو کچھ کیا ہے اس کی قدر و قیمت کیا ہے۔اسی کو شریعت کہتے ہیں۔۔۔فقہ کا پہلا سر چشمہ۔۔۔وحی الہی ہے یعنی وہ کلام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے مظہر بندے حضرت خاتم الانبیاء علی الی تم پر نازل کیا جس کا اعلیٰ ترین حصہ قرآن پاک ہے۔اس وحی کا دوسرا حصہ سنت و حدیث ہے یعنی آنحضرت صلی للی نم کی وہ فعلی روش ہے جس کو امت نے آپ کے ارشاد کے مطابق اپنایا یا آپ کے وہ اقوال و فرامین ہیں جو قرآن پاک کے علاوہ آپ نے گاہے بگاہے موقع محل کے مطابق بیان فرمائے۔۔۔ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے وضع کردہ قوانین اور اس کی مرضی معلوم کرنے کے چند اور ذریعے بھی ہیں۔مثلاً اجماع، قیاس، استحسان، مصالحہ مرسلہ، پہلی شریعتیں ، تعامل امت، معروف رواج۔پہلے سے رائج چلے آنے والے ملکی قوانین وغیرہ۔یعنی ہم مقررہ اور قرآن سنت کے بتائے ہوئے قواعد سے کام لے کر ان ذرائع سے بھی یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ کسی امر کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کیا ہے اور اس نے اس کے متعلق کیا حکم دیا ہے 61", اس سلسلے میں حضرت مرزا صاحب کے ارشادات زیر نظر مضمون کے حصہ 2-5 میں ملاحظہ ہوں۔چه نسبت حناک را با عالم پاک شریعت کے بارے میں یہاں بھی حضرت مرزا صاحب کا ایک اقتباس دیا جاتا ہے جو اس مسئلہ کی بکلی وضاحت کرتا ہے:۔“خدا تعالی کی حقانی شریعت اور تعلیم کا نازل ہو نا ضرورت حقہ سے وابستہ ہے۔پس جس جگہ ضرورات حقہ پیدا ہو گئیں اور زمانہ کی اصلاح کے لئے واجب معلوم ہوا کہ کلام الہی نازل ہو اس زمانہ میں خدائے تعالیٰ نے جو حکیم مطلق ہے اپنے کلام کو نازل کیا اور کسی دوسرے زمانہ میں گولاکھوں آدمی تقویٰ اور طہارت کی صفت سے متصف ہوں اور گو کیسی ہی تقدس اور پاک باطنی رکھتے ہوں ان پر خدا کا وہ کامل کلام ہر گز نازل نہیں ہوتا کہ جو شریعت حقانی پر مشتمل ہو۔۔۔۔