براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 101 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 101

براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 101 سوسائیٹیز جو ہندوستان میں مشنری بھیجتی تھیں اس سے فکر مند ہوئیں کہ آئندہ اسلام کا مقابلہ کیونکر ہو گا۔اس شکست کی خفت مٹانے کے لیے مرتدین از اسلام پادریوں میں سے پادری عماد الدین نے ایک نہایت دل آزار کتاب (توزین الا قوال ) لکھی جس کا اوپر ذکر آچکا ہے۔اس کے بارے میں ہندو اخبارات “رائے ہند اور “ پر کاش امر تسر اسی طرح آفتاب پنجاب اور عیسائی پرچہ شمس الاخبار ” لکھنو نے اس کے متعلق لکھا کہ “ یہ حد درجہ اشتعال انگیز اور شرر خیز ہے۔اور 1857ء کے مانند اگر پھر غدر ہوا تو اس شخص کی بد زبانیوں اور بے ہودگیوں سے ہو گا۔" مذکورہ کتاب میں اس نے قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت پر اعتراضات کئے اور لکھا کہ وہ فصیح و بلیغ نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس پر نہایت رکیک اور بو دے اور شرمناک حملے کئے اور حضرت مرزا صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو اکسایا اور لکھا کہ یہ شخص (یعنی حضرت مرزا صاحب) ایک مفسد آدمی اور گورنمنٹ کا دشمن ہے۔وغیرہ وغیرہ جب یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچی تو آپ نے اس کے جواب میں ایک کتاب “نور الحق حصہ اول اور “نور الحق ” حصہ دوم بزبان عربی لکھیں۔اور پادری مذکور کے جملہ اعتراضات کے مدلل اور مسکت جوابات دیئے۔اس کتاب کے عربی زبان میں لکھنے کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ یہ مرتدین اسلام پادری لوگ اپنا مولوی اور علماء اسلام میں سے ہو نا مشہور کرتے تھے۔حضرت مرزا صاحب نے ان کو چیلنج دیا کہ اگر وہ اپنے اس دعویٰ میں بچے ہیں کہ وہ عالم اور عربی زبان جانتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں عربی زبان میں ایسی ہی کتاب لکھیں اور ان پادریوں کے نام بھی اس کتاب میں درج کر دیئے۔تحریر فرمایا: ثم بعد ذلك نخاطب كل متنصر ملقب بالمولوي، الذي كتبنا اسمه في الهامش، وندعو كلهم للمقابلة ولهم خمسة آلاف إنعاما منّا إذا أتوا بكتاب كمثل هذا الكتاب، كما كتبنا من قبل في هذا الباب والمهلة منا ثلاثة أشهر للمعارضين، فإن لم يبارزوا ، ولن يبارزوا ، فاعلموا أنهم كانوا من الكاذبين۔" ترجمہ: پھر اس کے بعد ہم ہر ایک کرشتان کو جو اپنے تئیں مولوی کے نام سے موسوم کرتا ہے اور مخاطب کرتے ہیں اور اُن سب کے نام ہم نے حاشیہ میں لکھ دیئے ہیں اور ان سب کو مقابلہ کے لیے بلاتے ہیں اگر وہ ایسی کتاب بنادیں تو ہماری طرف سے اُن کو پانچ ہزار روپیہ انعام ہے جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں اور بالمقابل کتاب تالیف کرنے والوں کیلئے ہماری طرف سے تین مہینہ ہے اور اگر مقابل پر نہ آویں اور ہر گز نہ آویں گے پس یقیناً جانو کہ وہ جھوٹے ہیں۔56 مولوي كرم الدين، مولوي نظام الدين، مولوي إلهي ،بخش مولوي حميد الله خان، مولوي نور الدين، مولوي سيد علي، مولوي عبد الله ،بیگ مولوي حسام الدين ،بمبئي،مولوي حسام الدين، مولوي نظام الدين مولوي قاضي صفدر علی مولوي عبد الرحمن، مولوي حسن على وغيره وغيره۔