براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 96
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 96 کہ پیش کردہ آیات میں “وہی قرینہ از قسم نزول و آیات بینات ہیں۔مولوی چراغ علی صاحب کی اس بات سے عیسائیوں کی بات واضح نہیں ہوتی جس کا انہوں نے نفی آیات کے لئے حوالہ دیا ہے۔چونکہ بات پادری عماد الدین صاحب کی کتاب تواریخ محمدی ” کی ہو رہی ہے اس لئے ان ہی کا حوالہ دیا جانا چاہئے تھا۔لیکن مولوی چراغ علی صاحب نے نہ معلوم کن مصالح کی بناء پر ایسا نہیں کیا لیکن را قم الحروف پادری صاحب کی مذکورہ کتاب سے پادری صاحب کے اعتراض کو درج کرتا ہے: پہلی دلیل یہ ہے کہ قرآن میں محمد صاحب کا کوئی معجزہ مذکور نہیں ہے۔اگر ان کے ہاتھ سے بقدرت الہی معجزات ظاہر ہوئے تو قرآن میں ان کا ذکر کچھ تو ملتا۔۔۔قرآن معجزات محمدیہ کی نسبت نہ صرف سکوت رکھتا ہے بلکہ صرف اقرار کرتا ہے کہ محمد صاحب کو خدا نے معجزے دے کر دنیا میں نہیں بھیجا تھا۔سورہ بنی اسرائیل کے 6 رکوع میں وَ مَا مَنَعَنَا أَنْ تُرْسِلَ بِالْايَتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ (60 :17 ) یعنی محمد کو ہم نے اس لئے معجزات دے کر نہیں بھیجا کہ اگلے پیغمبروں کے معجزات کی تکذیب دنیا میں ہو چکی ہے۔۔۔پس قرآن معجزات کا صاف انکار کرتا ہے البتہ حدیثیں اقرار کرتی ہیں جو قرآن سے کم مرتبہ اور بے سند باتیں ہیں۔50 پادری عماد الدین صاحب نے درج بالا عبارت میں دو باتیں کیں ہیں ایک یہ کہ قرآن کریم میں حضرت محمد صلی اللہ نام کا کوئی معجزہ مذکور نہیں دوسرا یہ کہ ہم بعض ان گذشتہ قہری نشانوں کو (جو عذاب کی صورت میں پہلی امتوں پر نازل ہو چکے ہیں ) اس لئے نہیں بھیجتے جو پہلی امت کے لوگ اس کی تکذیب کر چکے ہیں۔اور اس کا نتیجہ یہ نکالا ہے کہ “ قرآن معجزات کا انکار کرتا ہے”۔ہم پہلے دوسری بات کے متعلق بیان کر کے پھر پہلی کی طرف توجہ دیں گے۔اس آیت کریمہ کی تفسیر حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اپنی ایک کتاب میں درج فرماتے ہیں: اس جگہ واضح ہو کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں:۔1 نشان تخویف و تعذیب جن کو قہری نشان بھی کہہ سکتے ہیں، نشان تبشیر و تسکین جن کو نشان رحمت سے بھی موسوم کر سکتے ہیں۔تخویف کے نشان سخت کافروں اور کج دلوں اور نافرمانوں اور بے ایمانوں اور فرعونی طبیعت والوں کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں تا وہ ڈریں اور خدائے تعالی کی قہری اور جلالی ہیبت اُن کے دلوں پر طاری ہو اور تبشیر کے نشان ان حق کے طالبوں اور مخلص مومنوں اور سچائی کے متلاشیوں کے لئے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو دل کی غربت اور فروتنی سے کامل یقین اور زیادت ایمان کے طلبگار ہیں۔۔سو مومن قرآن شریف کے وسیلہ سے ہمیشہ تبشیر کے نشان پاتا رہتا ہے اور ایمان اور یقین میں ترقی کرتا جاتا ہے۔۔۔۔تا وہ یقین اور معرفت میں بے نہایت ترقیاں کرتا جائے اور حق الیقین تک پہنچ جائے۔۔۔محبت اور عشق میں بھی دن بدن بڑھتا رہتا ہے۔۔۔سالک کو معرفت کا ملہ اور محبت ذاتیہ کی اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جو اولیاء اللہ کے لئے منتہی المقامات ہے۔قرآن شریف۔۔۔نے ان نشانوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک دائمی وعدہ دے دیا ہے کہ قرآن شریف کے سچے متبع ہمیشہ ان نشانوں کو پاتے رہیں گے جیسا کہ فرماتا ہے لَهُمُ الْبُشْري فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللَّهِ ذُلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمِ (65: 10) یعنی ایمان دار دنیوی زندگی اور آخرت میں بھی تبشیر کے نشان پاتے رہیں گے جن کے ذریعے سے وہ دنیا اور آخرت میں معرفت اور محبت کے میدانوں میں نا پید اکنار ترقیاں کرتے جائیں گے۔اگر خدا تعالیٰ کے کل نشانوں کو قہری نشانوں میں ہی محصور سمجھ کر اس آیت کے یہ معنے کئے جائیں کہ ہم تمام نشانوں کو محض تخویف کی b