براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 97
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام غرض سے بھیجا کرتے ہیں اور کوئی دوسری غرض نہیں ہوتی تو یہ معنی بہ بداہت باطل ہیں۔97 اب چونکہ اس بات کا فیصلہ ہو گیا کہ نشانوں کے دو قسموں میں سے صرف تخویف کے نشانوں کا آیات موصوفہ بالا میں ذکر ہے تو یہ دوسر ا امر تنقیہ طلب باقی رہ گیا کہ اس آیت کے (جو مَا مَنَعَنا الخ ہے) یہ معنے سمجھنے چاہیں کہ تخویف کا کوئی نشان خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی ای کرم کے ہاتھ پر ظاہر نہیں کیا۔۔۔۔( یہ ) معنی کسی طرح درست نہیں کیونکہ۔۔۔ظاہر یہ ہے پہلی امتوں نے انہیں نشانوں کی تکذیب کی جو انہوں نے دیکھے تھے۔۔۔۔حالانکہ نادیدہ نشانوں میں ایسے اعلیٰ درجے کے نشان بھی تحت قدرت باری تعالیٰ ہیں جس کی کوئی انسان تکذیب نہ کر سکے اور سب گرد نہیں اس کی طرف جھک جائیں کیونکہ خدا تعالیٰ ہر ایک رنگ کا نشان دکھلانے پر قادر ہے اور پھر چونکہ نشانہائے قدرت باری غیر محدود اور غیر متناہی ہیں تو پھر یہ کہنا کیو نکر درست ہو سکتا ہے کہ محدود زمانہ میں وہ سب دیکھے بھی گئے اور ان کی تکذیب بھی ہو گئی۔وقت محدود میں تو وہی چیز دیکھی جائے گی جو محدود ہو گی۔۔۔۔بہر حال اس آیت کے یہی معنے صحیح ہوں گے جو بعض نشانات پہلے کفار دیکھ چکے تھے اور ان کی تکذیب کر چکے تھے ان کا دوبارہ بھیجنا عبث سمجھا گیا جیسا کہ قرینہ بھی انہی معنوں پر دلالت کرتا ہے یعنی اس موقعہ پر جو ناقہ خمود کا خدائے تعالیٰ نے ذکر کیا وہ ذکر ایک بھاری قرینہ اس بات پر ہے کہ اس جگہ گذشتہ رد کر دہ نشانات کا ذکر ہے جو تخویف کے نشانوں میں سے تھے۔۔۔( اور اس کے معنے ) یہ قابل اعتبار ہیں کہ دو نو قسم کے تخویف کے نشان آنحضرت صلی علیم کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے رہے ہیں بجز ان خاص قسم کے بعض نشانوں کے جن کو پہلی امتوں نے دیکھ کر جھٹلایا تھا اور ان کو معجزہ نہیں سمجھا تھا۔ایک اور بات منصفین کے سوچنے کے لائق ہے جس سے ان پر ظاہر ہو گا کہ آیت وَ مَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَتِ الخ سے ثبوت معجزات ہی پایا جاتا ہے۔کیونکہ الایات کے لفظ پر الف لام واقعہ ہے وہ بموجب قواعد نحو کے دو صورتوں سے خالی نہیں یا کل کے معنے دے گا یا خاص کے۔اگر کل کے معنی دے گا تو یہ معنی کیے جائیں گے کہ ہمیں کل معجزات کے بھیجنے سے کوئی امر مانع نہیں ہو مگر اگلوں کا اُن کو جھٹلانا اور اگر خاص کے معنی دے گا تو یہ معنی ہوں گے کہ ہمیں ان خاص نشانیوں کے بھیجنے سے (جنہیں منکر طلب کرتے ہیں ) کوئی امر مانع نہیں ہوا۔مگر یہ کہ ان نشانیوں کو اگلوں نے جھٹلایا بہر حال ان دونوں نشانوں کا آنا ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ اگر یہ معنی ہوں کہ ہم نے ساری نشانیاں بوجہ تکذیب امم گذشتہ نہیں بھیجیں تو اس سے بعض نشانوں کا بھیجنا ثابت ہو تا ہے جیسے مثلاً کوئی کہے کہ میں نے اپنا سارا مال زید کو نہیں دیا تو اس سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ اس نے کچھ حصہ اپنے مال کا زید کو ضرور دیا ہے۔اور اگر یہ معنے لیں کہ بعض خاص نشان ہم نے نہیں بھیجے تو بھی بعض دیگر کا بھیجنا ثابت ہے۔۔۔اس جگہ نفی کا حرف صرف نشانوں کے ایک قسم خاص کی نفی کے لئے آیا ہے جس کا دوسرے اقسام پر کچھ اثر نہیں بلکہ اُس سے اُن کا متحقق الوجود ہونا ثابت ہو رہا ہے۔اور ان آیات میں نہایت صفائی سے اللہ جل شانہ بتلارہا ہے کہ اس وقت تخویفی نشان جن کو یہ لوگ درخواست کرتے ہیں صرف اسی وجہ سے نہیں بھیجے گئے کہ پہلی امتیں ان کی تکذیب کر چکی ہیں۔سو جو نشان پہلے رد کئے گئے اب بار بار انہی کو نازل کرنا کمزوری کی نشانی ہے اور غیر محدود قدرتوں والے کی شان سے بعید۔پس ان آیات میں یہ صاف اشارہ ہے کہ عذاب کے نشان ضرور نازل ہوں گے مگر اور رنگوں میں۔یہ کیا ضرورت ہے کہ وہی نشان حضرت موسیٰ کے یا وہی نشان حضرت نوح اور قوم لوط اور عاد اور محمود کے ظاہر کئے جائیں۔51 لیکن مولوی چراغ علی مرحوم نے اپنے عجز بیان سے زیر بحث بات کا سرے سے جواب ہی نہیں دیا بلکہ ٹال دیا۔اور ان کا بحیثیت مجموعی