براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 93
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 93 مثل میت کے ہو۔اور سب اسباب منقطع ہوں اور خدا جس کا وجود واقعی اور حقیقی ہے آپ اپنے کلام کو اپنے خاص ارادہ سے کسی کے دل پر نازل کرے۔پس سمجھنا چاہیئے کہ جس طرح آفتاب کی روشنی صرف آسمان سے آتی ہے آنکھ کے اندر سے پیدا نہیں ہوسکتی۔اسی طرح نور الہام کا بھی خاص خدا کی طرف سے اور اس کے ارادہ سے نازل ہوتا ہے۔یونہی اندر سے جوش نہیں مارتا۔جبکہ خدا فی الواقع موجود ہے اور فی الواقع وہ دیکھتا سنتا جانتا کلام کرتا ہے تو پھر اس کا کلام اسی حی و قیوم کی طرف سے نازل ہونا چاہیئے نہ یہ کہ انسان کے اپنے ہی خیالات خدا کا کلام بن جائیں۔ہمارے اندر سے وہی خیالات بھلے یا برے جوش مارتے ہیں کہ جو ہمارے اندازہ فطرت کے مطابق ہمارے اندر سمائے ہوئے ہیں۔مگر خدا کے بے انتہا علم اور بے شمار حکمتیں ہمارے دل میں کیونکر سما سکیں۔اس سے زیادہ تر اور کیا کفر ہو گا۔کہ انسان ایسا خیال کرے کہ جس قدر خدا کے پاس خزائن علم و حکمت و اسرار غیب ہیں۔وہ سب ہمارے ہی دل میں موجود ہیں اور ہمارے ہی دل سے جوش مارتے ہیں۔پس دوسرے لفظوں میں اس کا خلاصہ تو یہی ہوا کہ حقیقت میں ہم ہی خدا ہیں اور بجز ہمارے اور کوئی ذات قائم بنفسہ اور متصف بصفاتہ موجود نہیں جس کو خدا کہا جائے۔کیونکہ اگر فی الواقعہ خدا موجود ہے اور اس کے علوم غیر متناہی اسی سے خاص ہیں۔جن کا پیمانہ ہمارا دل نہیں ہو سکتا۔تو اس صورت میں کس قدر یہ قول غلط اور بیہودہ ہے کہ خدا کے بے انتہا علوم ہمارے ہی دل میں بھرے پڑے ہیں اور خدا کے تمام خزائن حکمت ہمارے ہی قلب میں سمارہے ہیں۔گویا خدا کا علم اس قدر ہے جس قدر ہمارے دل میں موجود ہے۔پس خیال کرو کہ اگر یہ خدائی کا دعویٰ نہیں تو اور کیا ہے۔لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کا دل خدا کے جمیع کمالات کا جامع ہو جائے؟ کیا یہ جائز ہے کہ ایک ذرہ امکان آفتاب وجوب بن جائے۔ہر گز نہیں ہر گز نہیں۔۔۔الوہیت کے خواص جیسے :۔علم غیب اور دقائق حکمیہ اور دوسرے قدرتی نشان انسان سے ہر گز ظہور پذیر نہیں ہو سکتے۔اور خد اکا کلام وہ ہے: جس میں خدا کی عظمت خدا کی قدرت خدا کی برکت خدا کی حکمت خدا کی بے نظیری پائی جاوے۔۔۔دوسروں کو یہ الہام یعنی یہو دیوں، عیسائیوں، آریوں برہمیوں وغیرہ کو ہر گز نہیں ہو تا بلکہ ہمیشہ قرآن شریف کے کامل تابعین کو ہو تا رہا ہے اور اب بھی ہوتا ہے اور آئندہ بھی ہو گا۔۔۔44 بھلا مولوی چراغ علی کے خود تراشیدہ خیالات کو حضرت مرزا صاحب کے مامور من اللہ ہو کر لکھی گئی اصل حقیقت سے کچھ نسبت ہے۔چه نسبت حاک را باعالم پاک اس پر مستزاد مولوی عبد الحق کی بلا تحقیق مدح سرائی۔ان امور سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مولوی چراغ علی نے کبھی بھی حضرت مرزا صاحب کی کتابوں مثلاً براہین احمدیہ کو پڑھا ہو۔مولوی چراغ بے شک اسلام سے ہمدردی رکھتے تھے لیکن دفاع اسلام میں اُن کی حیثیت ایک نادان دوست سے بڑھ کر نہیں اور ان کا براہین احمدیہ کے مالی معاونین میں شامل ہونا بھی عام ہمدردی کے جذبے سے ہے نہ کہ کسی مخصوص نقطہ نظر سے ! اگر کبھی مولوی چراغ علی حاشیہ میں اندراج کے لئے مضمون بھجواتے تو حضرت مرزا صاحب ان کو بھی برہمو سماجیوں میں ہی شمار کرتے جیسے کہ حضرت مرزا صاحب اپنے مکتوب مورخہ 8 / نومبر 1882ء بنام میر عباس علی صاحب لدھیانوی تحریر فرماتے ہیں:۔