براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 94 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 94

براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 94 برہمو سماج کا فرقہ دلائل عقلیہ پر چلتا ہے اور اپنی عقل ناتمام کی وجہ سے کتب الہامیہ سے منکر ہے۔چونکہ انسان کا خاصہ ہے کہ معقولات سے زیادہ اور جلد تر متاثر ہوتا ہے۔اس لئے اطفال مدارس اور بہت سے نو تعلیم یافتہ ان کی سوفسطائی تقریروں سے متاثر ہو گئے اور سید احمد خان بھی انہیں کی ایک شاخ ہے اور انہیں کی صحبتوں سے متاثر ہے۔پس ان کے زہر ناک وساوس کی بیخ کنی کرنا از حد ضروری تھا۔45۔(نوٹ: حکماء کا ایک گروہ جن کے اصولوں کی بنیاد و ہم پر ہے اور حقائق سے منکر ہیں۔ناقل ) حضرت مرزا صاحب مدارس کے بہت سے تو تعلیم یافتہ اور سر سید احمد خان کو بر ہمو سماج کی ہی ایک شاخ قرار دیتے ہیں اور برہمو سماج کی صحبتوں سے متاثر گردانتے ہیں۔اس لئے مولوی چراغ علی صحبت سرسید اور گذشتہ صفحات میں درج خیالات کی وجہ سے برہمو سماجیوں سے استثناء نہیں رکھتے ہیں۔سرسید گروپ کی قومی خدمات کا ایک الگ مقام ہے لیکن دین میں ان کی دخل اندازی کے بارے میں حضرت مرزا صاحب نے اپنے ایک مکتوب مورخہ 2 / جون 1883ء بنام میر عباس علی صاحب لدھیانوی میں لکھا:۔نیچریوں کا جو آپ نے حال لکھا ہے یہ لوگ حقیقت میں دشمن دین ہیں۔46 اس سلسلے میں راقم السطور کا ایک مضمون بعنوان سرسید احمد خان اور علی گڑھ تحریک پر تبصرہ ”مطبوعہ ماہ نامہ “ انصار اللہ ربوہ بابت ماہ ستمبر اکتوبر نومبر، دسمبر 2007ء اور جنوری 2008ء بھی ملاحظہ ہو۔وو 5-4- مولوی چراغ علی صاحب کی کتاب “تعلیقات ” ایک تقابلی مطالعہ مولوی چراغ علی صاحب نے پادری عماد الدین صاحب کی کتاب تواریخ محمدی " کے بارے میں 1871ء میں دورانِ قیام لکھنو ایک کتاب تعلیقات ” کے نام سے لکھی تھی۔یہ کتاب 1872ء میں مطبع منشی اصغر علی صاحب مالک اخبار مخبر صادق لکھنو میں طبع ہوئی تھی۔اس کتاب میں مولوی چراغ علی صاحب نے پادری عماد الدین صاحب (9/ اگست 1830ء - 1900ء) ( جس نے امر تسر میں پادری رابرٹ کلارک سے 1866ء میں بپتسمہ لیا تھا۔پادری عماد الدین لاہر اس سے قبل ایک مسلمان مولوی تھا اور مولوی عماد الدین لا ہنر نام تھا) کی کتاب تواریخ محمدی " جو 244 صفحات پر مشتمل تھی کا جواب 85 صفحات میں دیا تھا۔پادری عماد الدین نے اس کتاب میں ایک عنوان باندھا:۔“ اس بیان میں کہ احادیث کا خاص مضمون جو معجزات کی نسبت ہے قابل اعتبار نہیں 47 اور اس کے بعد چھ دلیلیں دیں۔مولوی چراغ علی صاحب نے اس کے جواب میں لکھا:۔چنانچه منجملہ معجزات محمدیہ غایت درجہ شہرت اور تواتر کے وہ ہوں گے جو مشاہدین ماجرا کے دست و قلم اور ہمعصر لوگوں کے ہاتھ سے نکلے گی اور وہ نوشتے اسی زمانہ سے اکناف عالم و آفاق میں مشہور و منتشر ہوتے گئے یعنی جن معجزات کا ذکر اور حوالہ اور اجمالی بیان قرآن و مصحف عظیم میں ہے۔" 48", اس فقرہ کے آخر پر نشان لگا کر حاشیہ میں 13 آیات قرآنیہ درج کیں ہیں۔جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔ان کے ساتھ مولوی چراغ علی صاحب نے ترجمہ نہیں لکھا۔راقم الحروف وضاحت کی خاطر ترجمہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ کے اردو ترجمہ