براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 92
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق (بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 92 اسلامی عقائد کے بر خلاف سرسید اور عیسائی حکام کی حمایت اور ہاں میں ہاں ملانے کے لئے معتقدات اسلامی کو روندتے چلے جاتے ہیں۔مولوی چراغ علی بات اسلام کے جہاد کے بارے میں کر رہے ہیں لیکن ساتھ کے ساتھ معجزات، پیش گوئیوں، عصمت انبیاء اور وحی و الہام سے دستبردار ہوتے جارہے ہیں۔مولوی چراغ علی کی مذکورہ بالا عبارت ہندو مذہب کے ایک نئے فرقے برہمو سماج کی بھی حمایت ہے۔ایک برہمو سماجی کا وحی والہام کے بارہ میں خیال ملاحظہ ہو :۔ہمارا تمام دماغی علم بھی الہام ہے۔اسے ہم پر ماتم کا الہام بھی کہیں گے۔40 “ہم مادی دنیا کو جیسا یہ ہمارے حواسوں پر ظاہر ہوتی ہے۔لیتے ہیں اور قدرت اور اس کے قوانین کے علم کو مناسب طریقے پر اپنے دلوں میں الہام تصور کرتے ہیں۔" 41 “ بے خود ہو کر محو ہو جانے یکسو دل اور دل ایک طرف لگانے کی حالت میں انسانی روح میں الہام ہو تا ہے۔اس وقت آتما خاص طور پر پر ماتما کے ماتحت ہو جاتا ہے اور روحانیت کے علم کی طرف بڑھتا ہے۔" 42 43" “ پر ماتما کا الہام انسان کو اس کی قدرتی طاقتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔” مولوی چراغ علی وحی و الہام کو قوائے انسانی کا قدرتی نتیجہ قرار دیتے ہیں اور برہمو سماجی بھی الہام کو انسان کی قدرتی طاقتوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور انسان کے دماغی علم کو الہام قرار دیتے ہیں۔گویا دونوں صاحبان اس بارے میں یک زبان ہیں۔لیکن حضرت مرزا صاحب اس بارے میں فرماتے ہیں:۔“ یہ خیال کرنا جو جو دقائق فکر اور نظر کے استعمال سے لوگوں پر کھلتے ہیں وہی الہام ہیں۔بجز ان کے اور کوئی الہام نہیں۔یہ بھی ایک ایسا وہم ہے جس کا موجب صرف کو رباطنی اور بے خبری ہے۔اگر انسانی خیالات ہی خدا کا الہام ہوتے تو انسان بھی خدا کی طرح بذریعہ اپنے فکر اور نظر کے امور غیبیہ کو معلوم کر سکتا۔۔۔خدا کے کام اور کلام میں خدائی کے تجلیات کا ہوناضروری ہے۔۔۔انسان کو اس عالم اسباب میں طرح طرح کی قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ پیدا کر کے ان کی فطرت کو ایک ایسے قانون فطرت پر مبنی کر دیا ہے۔یعنے اُن کی پیدائش میں کچھ اس قسم کی خاصیت رکھ دی ہے کہ جب وہ کسی بھلے یا برے کام میں اپنی فکر کو متحرک کریں۔تو اسی کے مناسب ان کو تدبیریں سوجھ جایا کریں۔جیسے ظاہری قوتوں اور حواسوں میں انسان کے لئے یہ قانون قدرت رکھا گیا ہے کہ جب وہ اپنی آنکھ کھولے تو کچھ نہ کچھ دیکھ لیتا ہے اور جب اپنے کانوں کو کسی آواز کی طرف لگاوے تو کچھ نہ کچھ سن لیتا ہے۔اسی طرح جب وہ کسی نیک یا بد کام میں کوئی کامیابی کا راستہ سوچتا ہے تو کوئی نہ کوئی تدبیر سوجھ ہی جاتی ہے۔صالح آدمی نیک راہ میں فکر کر کے نیک باتیں نکالتا ہے اور چور نقب زنی کے باب میں فکر کرکے کر کے کوئی عمدہ طریق نقب زنی کا ایجاد کرتا ہے۔غرض جس طرح بدی کے بارے میں انسان کو بڑے بڑے عمیق اور نازک بدی کے خیال سوجھ جاتے ہیں۔علی ہذا القیاس اسی قوت کو جب انسان نیک راہ میں استعمال کرتا ہے تو نیکی کے عمدہ خیال بھی سوجھ جاتے ہیں اور جس طرح بد خیالات کو کیسے ہی عمیق اور دقیق اور جادو اثر کیوں نہ ہوں خدا کا کلام ہے نہیں ہوسکتے ایسا ہی انسان کے خود تراشیدہ خیالات جن کو وہ اپنے زعم میں نیک سمجھتا ہے۔کلام الہی نہیں ہیں۔۔۔خدا کا پاک کلام وہ کلام ہے کہ جو انسانی قومی سے بکلی برتر و اعلیٰ ہے اور کمالیت اور قدرت اور تقدس سے بھرا ہوا ہے جس کے ظہور و بروز کے لئے اول شرط یہی ہے کہ بشری قوتیں بکلی معطل اور بیکار ہوں نہ فکر ہو نہ نظر ہو۔بلکہ انسان