براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 5
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 5 جاوے جو اس شخص کا حق ہو گا جو دلائل مندرجہ براہین کے پانچویں حصہ تک توڑ کر دکھاوے یا پانچویں حصہ کے برابر اسی قسم کے دلائل اپنی کتاب سے پیش کرے۔1-2۔براہین احمدیہ کے مخالفین اور معاندین یہ کتاب حقیقت اسلام اور صداقت محمدیہ کے لئے لکھی جارہی تھی مگر پھر بھی بد قسمتی سے مسلمانوں کے بعض کو ارٹر ز میں مخالفت کا ہلکا سادھواں اٹھتاد کھائی دیا اور جوں جوں کتاب کی جلدیں شائع ہونے لگیں مخالفت کے دائرہ میں وسعت ہوتی گئی۔1882-81ء میں اندرونی مخالفین میں شورش پید اہوئی اس لئے کہ حصہ سوم میں آپ نے یہ دعوی کھلے الفاظ میں کر دیا تھا کہ جس کو الہام میں شک ہو ہم اس کو مشاہدہ کر ا دیتے ہیں 11 یہ مخالفت امر تسر اور لدھیانہ میں ابھری جو تقریر کے دائرہ سے نکل کر تحریر کے دائرہ میں آنے لگی۔بیر ونی مخالفین کا اظہار اخبار سفیر ہند امر تسر ، نور افشاں لدھیانہ اور رسالہ و دیا پر کاشک امر تسر میں ہو تا تھا۔نور افشاں اور سفیر ہند میں تو پادری صاحبان نے اور ودیا پر کا شک میں آریوں نے طوفان بے تمیزی برپا کیا۔ان مخالفین کا حضرت مرزا صاحب نے براہین احمدیہ حصہ دوم میں ذکر کیا۔آپ کو اپنی کامیابی اور مخالفین کے ناکام رہنے کا اس قدر بصیرت افروز یقین تھا کہ انہیں خطاب کر کے کہا۔سچ سچ کہو اگر نہ پھر بھی جواب بنا تم ނ کچھ یا نہیں جہاں کو دکھاؤ گے منه بیرونی مخالفین میں پادری بی ایل ٹھاکر داس، بر ہموؤں میں سے پنڈت سیتانند اگنی ہوتری نے براہین پر ریویو نگاری کے رنگ میں اعتراضات کئے اور آریوں میں سے مقتول لیکھ رام نے تکذیب براہین احمدیہ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔لیکن ان میں سے کسی کو یہ جرات اور حوصلہ نہ ہوا کہ وہ میدان مقابلہ میں آکر براہین کے اعلان کے موافق فیصلہ کرتے۔-1-3- براہین احمدیہ کی تصنیف کے متعلق ایک معترض براہین احمدیہ اپنے مضامین کی قوت اور اسلوب بیان کی ندرت کے لحاظ سے بے نظیر اور لاجواب تصنیف ہے۔مخالفین نے اس کے متعلق جو کچھ چاہا لکھا مگر کسی شخص کو یہ لکھنے کی کبھی جرات نہ ہوئی کہ اس کتاب کی تصنیف میں کسی اور کا کچھ بھی دخل تھا۔لیکن مولوی عبد الحق نے مولوی چراغ علی کی ایک انگریزی کتاب کا ترجمہ “ اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام ” کے نام سے کیا تو اس کے مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی) کے بعض مکتوبات کا خلاصہ دے کر جو نتیجہ نکالا ہے وہ مکتوبات کی اندرونی شہادت پر غور کرنے سے بخوبی عیاں ہے لیکن مولوی صاحب اور ان کی اندھا دھند تقلید میں ایک صدی سے زائد عرصہ سے کسی مثال اور مقام کی نشاندہی کے بغیر کچھ لوگ حضرت مرزا صاحب کے بارے میں ایک غلط اور بے بنیاد بات کی بلا ثبوت اور بغیر سوچے سمجھے نقل در نقل کرتے چلے آرہے ہیں اور یہی ہمارے زیر نظر مقالے کا موضوع ہے۔اس سلسلے میں اگر چہ “ حیات احمد ” کے فاضل مصنف شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اپنی کتاب کے منشاء کے خلاف کوئی موازنہ قائم نہیں کیا لیکن بہت سے دلائل اس کی تردید میں تحریر کئے ہیں۔جن سے ناچیز راقم الحروف نے اس مضمون میں جابجا بھر پور استفادہ کیا ہے۔اور شیخ صاحب موصوف کے دلائل کی توسیع میں راقم السطور ایک موازنہ بھی پیش کر رہا ہے۔لیکن اس سے قبل مولوی عبد الحق