براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 6
براہین احمدیہ : مولوی عبد الحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام ( معترض) اور مولوی چراغ علی (جن کی آڑ میں مولوی عبد الحق صاحب نے براہین احمدیہ پر اعتراض کیا ہے ) کے: 6 سوانحی کوائف، مذہبی عقائد ، دیانت فکر و نظر، مولوی چراغ علی سے ربط و ضبط اور مولوی عبد الحق کی دیانت تصنیف و تالیف پر باب دوم اور سوم میں نظر ڈالی گئی ہے کہ تا مولوی عبد الحق صاحب کا اس علمی بد دیانتی پر مقام متعین کیا جا سکے اور پھر اس اعتراض کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے خود مولوی عبد الحق اور ان کے ممدوح مولوی چراغ علی کا علمی و دینی مقام کا بھی تعین کیا جاسکے۔ایک موازنہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی تحریروں سے کر کے اس قصے کو تمام کیا گیا ہے۔1-4۔براہین احمدیہ اور مولوی عبد الحق کا مقدمہ اعظم الکلام مولوی عبد الحق کی شخصیت پر غور کیا جائے تو ہمیں دو ایک ایسی باتوں کا سراغ ملتا ہے جن سے آشنا ہوئے بغیر ہم اس دور کے مزاج کا پتہ نہیں چلا سکتے۔یہ صحیح ہے کہ مولوی صاحب نے تقریب ستر سال علم و ادب سے براہ راست تعلق رکھنے کے باوجو د ایک بھی ایسی مستقل کتاب نہیں چھوڑی ہے جو ادب میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رکھ سکے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے شعر و شاعری پر کوئی ایسی تحریر نہیں چھوڑی جسے ان کے ادبی و شعری نظریات کا حامل قرار دیا جاسکے یا ان کے مقدموں اور تبصروں میں جو شعراء پر لکھے گئے ہیں ان سے شعری مذاق یا اس کے افہام و تفہم کا اتنا اندازہ بھی نہیں ہو تا جتنا یاد گار غالب ” سے ہوتا ہے۔اور یہ بھی خیال کوئی زیادہ غلط نہیں کہ انہوں نے زیادہ تر مقدموں میں جس تحقیقی زاویہ نظر کو پیش کیا ہے۔وہ اپنی ساری افادیت کے باوجو د ایسے نہیں، جن سے اکثر کی تردید ہو چکی ہے یا ایسے انکشافات پر مبنی ہیں جن کی چھان پھنک جتنی چاہئے تھی نہیں کی گئی یا ان کی بعض جگہ تکرار کی گئی ہے۔لیکن یہ اعتراض کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ مولوی صاحب کا اصل تحقیقی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو کی عمر کئی سو سال بڑھا دی۔خواہ یہ اتفاق ہو مگر مولوی صاحب اگر اردو کو اپنا دین و ایمان نہ بنالیتے تو یہ کارنامہ پتہ نہیں اور کتنے عرصہ تک پر دہ اخفا میں رہتا۔12 شمیم احمد کی یہ رائے کہ مولوی عبد الحق کے مقدمات میں جس تحقیقی زاویہ نظر کو پیش کیا گیا ہے اُن میں سے اکثر کی تردید ہو چکی ہے یا ایسے انکشافات پر مبنی ہیں جن کی جتنی چھان پھٹک چاہئے تھی نہیں کی گئی ایک صائب رائے ہے۔انہیں مقدمات میں سے مولوی عبد الحق کا ایک مقدمہ مولوی چراغ علی کی انگریزی کتاب Proposed Political, Legal and social Reforms under 'Muslim Rule کے ترجمہ جو “ اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام" کے نام سے کیا گیا ہے۔مولوی عبد الحق نے یہ ترجمہ 1910ء میں مطبع مفید عام آگرہ سے شائع کیا اور وہی ایڈیشن ہمارے پیش نظر ہے۔مولوی عبد الحق صاحب اس کتاب کو نہایت پر زور مدلل اور جامع کتاب " 13 قرار دیتے ہیں۔اس فقرہ میں مولوی عبد الحق، چراغ علی کی کتاب کو پُر زور قرار دے رہے ہیں جبکہ اسی مقدمہ کے چند صفحات پہلے موصوف مولوی چراغ علی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ “ ان کی تحریر میں گرمی نہیں، اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ سردمہر منطقی ایک ایسے مبحث پر جس سے اُسے دلچسپی ہے بحث کر رہا ہے۔اور واقعات اور دلائل براہین پیش کر کے بال کی کھال نکال رہا ہے۔حالانکہ مذہب کو منطق و استدلال سے تعلق نہیں جتنا کہ انسان کے جذبات لطیفہ یا وجد ان قلب سے ہے۔اس لئے مذہب پر بحث کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان رسمی قیود سے باہر نکل کر نظر ڈالے اور اس میں وہ جوش و حرارت ہو جو ایک سردمہر منطقی یا ایک کائیاں دنیادار میں نہیں ہو سکتی۔"14 مولوی عبد الحق کو مولوی چراغ علی کے بیشتر خیالات سے اتفاق ہے۔مولوی صاحب نے مقدمے میں اس کتاب پر تنقید نہیں کی ہے بلکہ اس کا خلاصہ پیش کر دیا گیا اور اس انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مولوی چراغ علی کے خیالات سے متفق ہیں۔15