براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 4 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 4

براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام 4 مرزا اسماعیل بیگ 1877ء یا 1878ء کے قریب حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمت میں آئے تھے۔جو بیگ صاحب کے کھیلنے کودنے کے دن تھے۔کوئی نو دس سال کی عمر تھی۔آپ کا کام یہ مقرر ہوا کہ وہ آپ کے گھر سے روٹی لے کر آیا کریں اور حضرت کے پاس کھالیا کریں اور نماز آپ کے ساتھ پڑھنے جایا کرے۔موصوف کا بیان ہے کہ ان ایام میں حضرت صاحب کوئی مسودہ لکھا کرتے یہی وہ زمانہ ہے جبکہ براہین احمدیہ کی تصنیف کا کام شروع ہو رہا تھا۔حضرت مرزا غلام مرتضیٰ ( والد ماجد حضرت مرزا غلام احمد قادیانی) مرزا اسماعیل بیگ کو کبھی کبھی بلا لیتے۔آپ چار پائی پر پڑے رہتے پاس دو کرسیاں پڑی رہتی تھیں۔مرزا اسماعیل بیگ کو کرسی پر بیٹھ جانے کے لئے فرماتے اور دریافت کرتے کہ : سنا تیر امر زا کیا کرتا ہے؟ تو میں (مرزا اسماعیل بیگ) کہتا کہ قرآن دیکھتے ہیں (حضرت مر زاصاحب نے قرآن مجید کو بے انتہا مر تبہ پڑھا ہے۔آپ کے پاس ایک حمائل تھی۔جسے بقول آپ کے صاحبزادے خان بہادر مر زا سلطان احمد شاید دس ہزار مرتبہ اس کو پڑھا ہو۔مصنف حیات احمد نے خود اسے دیکھا تھا) اس پر وہ کہتے کہ کبھی سانس بھی لیتا ہے (مطلب یہ تھا کہ قرآن مجید کی تلاوت سے فارغ بھی ہوتا ہے۔مصنف حیات احمد ) پھر یہ پوچھتے کہ رات کو سوتا بھی ہے ؟ میں جو اب دیتا کہ ہاں سوتے بھی ہیں اور اٹھ کر نماز بھی پڑھتے ہیں۔اس پر مرزا صاحب ( والد ماجد حضرت مرزا غلام احمد قادیانی) کہتے کہ اس نے سارے تعلقات چھوڑ دیئے ہیں۔میں اوروں سے کام لیتا ہوں۔دوسرا بھائی کیسالا ئق ہے وہ معذور ہے۔حضرت اقدس ( مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) جب والد صاحب کی خدمت میں جاتے تو نظر نیچے ڈال کر چٹائی پر بیٹھ جاتے تھے آپ (حضرت والد ماجد صاحب) کے سامنے کرسی پر نہیں بیٹھتے تھے۔یہ ان ایام میں آپ کی شبانہ روز زندگی کا ایک انتہائی مختصر خاکہ ہے۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ایک ایسے گاؤں قادیان (ضلع گورداسپور / انڈیا) میں رہتے تھے جہاں عام واقفیت اور علمی معلومات کے بڑھانے کا کوئی موقعہ نہیں تھا۔لیکن آپ ان تمام حالات سے واقفیت رکھتے تھے جو مذ ہی دنیا میں پیداہورہے تھے اور ہر مذہبی تحریک کا اس نظر سے مطالعہ کرتے تھے کہ وہ کس حد تک اسلام سے تصادم کرنے والی ہے۔اور جہاں آپ کو معلوم ہوتا کہ کوئی تحریک اسلامی عقیدہ یا تعلیم سے فکر کھاتی ہے۔آپ فوراً اصول اسلام کی صیانت کے لئے شمشیر قلم ہاتھ میں لے کر میدان میں نکل آتے اور اس طرح پر اخبارات کے ذریعہ ان اعتراضات اور ان کے جوابات دینے میں مصروف نظر آتے ہیں۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ اسلام پر چاروں طرف سے حملے شروع ہو گئے تھے۔عیسائی اپنی پوری قوت اور طاقت کے ساتھ حملے کر رہے تھے۔آریوں کے جدید فرقہ نے ان کو مدد دی۔جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ان حملوں کی ذرا بھی پرواہ نہ ہوتی اگر مسلمانوں کی اندرونی حالت درست ہوتی مگر وہ دن بدن قابل افسوس ہو رہی تھی۔سرسید کی تحریک مذہبی نقطہ خیال سے مضر اثر پیدا کر رہی تھی۔یہ بھی براہین احمدیہ کی تالیف کی ابتدائی تحریک میں سے ایک وجہ تھی۔کچھ شک نہیں کہ براہین احمدیہ کی تصنیف کے خارجی محرکات یہی مباحثات تھے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ مباحثات بھی ربانی تحریک کے نتیجے میں تھے۔اس وقت کے اسلامی مذہبی لیڈروں میں حضرت مرزا صاحب کا نام تک بھی نہ آتا تھا کہ یکا یک ایسی ہوا چلی کہ ان مضامین نے مذہبی میدان میں ایک نئی حرکت پیدا کر دی اور تمام لوگوں کی توجہ کو بدل دیا اور جب پنڈت دیانند جی اور دوسرے آریہ مناظر اس میدان میں نہ ٹھہر سکے تو حضرت مرزا صاحب کی شخصیت غیر معمولی نظر آنے لگی اور ادھر حضرت نے اسلام پر حملوں کی کثرت کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر لیا کہ اسلام کی صداقت کے اظہار و اعلان کو زندگی اور موت کا سوال بنادیا جاوے۔چنانچہ آپ نے براہین احمدیہ کی اشاعت کا ارادہ اس نہج پر کیا کہ اس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کے انعام کا اعلان کیا