براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 136 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 136

براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام 136 سے متعلق ہو کے خلاف بہت ناشائستہ اور بازاری ہوتے تھے۔کینن میکال نے اس (به زعم خود) جنگ (جہاد) کو کن ٹم پوریری ریویو کے صفحات پر اپریل 1888 اور فروری اور اکتوبر 1899 تک جاری رکھا۔" شاید کے کے عزیز صاحب سے میکال کا اگست 1881 ء کا مضمون نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔اسی لئے موصوف نے دیگر امور کا ذکر کیا ہے اور میکال کے ضمن میں 1881 کی بجائے 1888 لکھ گئے ہیں۔تاہم ان تمام مضامین پر اگر نظر ڈالی جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اصولی طور پر ان تمام کار د حالی و قالی طور پر به تائید ایزدی براہین احمدیہ میں کر دیا ہے جس کے ایک پہلو کو مذکورہ مضمون کے حوالے سے براہین احمدیہ پر اعتراض کئے جانے پر کھولا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مولوی چراغ علی کے متبعین کی ان حقائق سے آگہی کے سامان کرے تا کہ کنویں کے باسیوں کو باہر کا بھی کچھ معلوم ہو سکے اور وہ اسے قبول بھی کریں۔(آمین یا ارحم الراحمین) مولوی چراغ علی صاحب کے سوانح نگار ڈاکٹر منور حسین، مولوی صاحب کے مضمون “ یورپ اور قرآن” کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں : “ اس میں کل اکیس فقرے ہیں اور قرآن مجید کے جمع و ترتیب اور اس کے کلام الہی ہونے کے سلسلہ میں بحث کی گئی ہے۔۔۔49", لیکن مولوی چراغ علی صاحب اس مضمون کے پہلے ہی فقرہ میں لکھتے ہیں: مندرجہ ذیل فہرست سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بارہویں صدی عیسوی سے اس زمانہ تک۔۔۔ہر طبقہ کے عالموں نے قرآن مجید کے ترجمے کرنے اور اس سے اقتباس نور یا احقاق حق میں ہمیشہ کوشش بلیغ کی ہے۔"50 جو قرآن مجید کے تراجم یا اقتباس نور یا Acquiring Knowlege یا احقاق حق To administer Justice کی بابت ہے لیکن ڈاکٹر صاحب موصوف اسے جمع و ترتیب سے منسوب کرتے ہیں۔اسی طرح مذکورہ مضمون میں ہی مولوی چراغ علی صاحب کے فقرہ نمبر 18 میں حفظ و کتابت کا ذکر چل رہا ہے۔لیکن مولوی صاحب بلا ضرورت و بے محل حسب عادت مستشرق سرولیم میور کا ایک فقرہ بلا تبصرہ نقل کرتے ہیں جو دراصل وان ہیمر (Von) (Hammer کے الفاظ ہیں "That we hold the Koran to be a surely Mahomet's word as the Mohamdans hold it to be word of God۔۔۔” جس کا ترجمہ مولوی چراغ علی صاحب درج کرتے ہیں “جیسا کہ وان ہیمر نے کہا ہے یہ کہتے ہیں کہ قرآن کو ہم بالیقین ایسا ہی محمد کا کلام سمجھتے ہیں جیسا کہ مسلمان اُس کو کلام الہی سمجھتے ہیں۔" (صفحہ 126-127) اس حوالہ سے تو قرآن شریف کے کلام الہی ہونے کی بحث کب نکلتی ہے؟ یہ تو صرف ایک الزام ہے کہ وان ہیمر اور ولیم میور قرآن شریف کو کلام الہی نہیں سمجھتے مسلمان سمجھتے ہیں تو ان کا اعتقاد ہے۔لیکن مولوی چراغ علی نہ معلوم اس بلا محل و بے ضرورت حو الے کو بلا تبصرہ یہاں کیوں درج کرتے ہیں؟ غالباً اپنے مزعومہ خیالات کی ہو اباند ھنا چاہتے ہیں ! مولوی چراغ علی صاحب اپنی کتاب “ تعلیقات ” میں لکھتے ہیں“ قرآن کی وحدت مضمون اس پر دال ہے کہ ایک ہی شخص کا لکھا ہوا ہے ( حاشیے پر درج شدہ عبارت ) اور متن میں درج کرتے ہیں: اس کے موضوع و منشاء عام ایسے باہم متقارب ہیں کہ ایک ہی صاحب رائے صائب و پختہ کار با و قار و سلیم القلب و غیر متزلزل کے