براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 137 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 137

براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو) کا مقدمہ اعظم الکلام رشحات قلم و نتائج فہم معلوم ہوتے ہیں۔"51 وو 137 اس پر دلیل لاتے ہیں جی ایم راڈول کی یعنی : آیات قرآنی میں ایسی وحدت خیال۔۔۔جسے (کذا۔جس سے ) ثابت ہو تا ہے کہ آیات قرآن قلم واحد کے رشحات ہیں۔” 52 دونوں مقامات پر قرآن شریف کو شخص واحد کی طرف منسوب کرتے ہیں اور قرآن شریف کا کلام الہی ہونا ظاہر نہیں کرتے اور ثبوت میں حوالہ مستشرق راڈول کا دیتے ہیں جس کے مورث اعلیٰ وان ہیمر اور میور قرآن شریف کو کلام الہی یقین نہیں کرتے اور اُن کے خیالات پر ذرا بھی نہیں چونکتے بلکہ اپنی وسعت معلومات وافرہ کو ظاہر کرنے کے لیے مستشرقین کے ہی بد خیالات کا سہار الیتے ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔اور اسلام کے دفاع میں پادریوں کے جوابات دیتے ہیں۔لیکن اُن کی ہی عدم واقفیت سے تردید کی بجائے تائید کرتے چلے جاتے ہیں۔مولوی چراغ علی اپنے آخری دور کی کتاب "ریفارمز انڈر مسلم رول" میں واضح طور پر لکھتے ہیں جسے موصوف Conclusion کا نام دیتے ہیں اور ان کے مترجم اسے " خاتمہ " کا نام دیتے ہیں۔چنانچہ لکھتے ہیں: On the Contrary Islam, by which I mean that pure Islam taught by the Arabian Prophet, Muhammad in the Koran has much checked۔۔۔"(Page-183) ترجمه مترجم : بلکہ بر خلاف اس کے اسلام نے جس سے میری مراد وہ پاک اور ٹھینٹ اسلام ہے جو پیغمبر عرب محمد صلی الم نے ہمیں قرآن میں بتایا ہے۔۔۔(صفحہ ۱۸۴ عظم الکلام حصہ دوم) گویا مصنف اور مترجم کے نزدیک قرآن میں بتانا آنحضرت صلی ای کم کا کام ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کا ! وحی و الہام کے بارے میں مولوی چراغ علی صاحب کے خیالات میں تبدیلی واقع ہوتی رہی ہے۔موصوف کی غیر مطبوعہ تصانیف میں انیس 19 صفحات کا ایک مضمون “رؤیا الانبیاء وحی یونیورسٹی آف حیدر آباد آندھراپردیش انڈیا کے مسودات میں شامل ہے جس کے ابتدائی پیراگراف میں مولوی چراغ علی صاحب لکھتے ہیں: نبیوں کے خواب سب بچے ہوتے ہیں اور وہ در حقیقت وحی ہوتے ہیں۔"53 اسی خیال کی وضاحت میں ڈاکٹر منور حسین لکھتے ہیں: “مصنف کے خیال میں ”وحی“ بھی ہمیشہ خوابوں ہی میں آتی تھی۔کبھی دل میں بات ڈالی جاتی ، کبھی خواب میں آواز سنتے یا کبھی خواب میں فرشتوں کے ذریعہ پیغام پہنچتا، بس یہی تین طریقے تھے ، اپنی اس بات کی تائید کے لئے سورۃ المزمل، المد شر اور ان میں قرآن کے الفاظ ناشئة الليل ، ان لك في النهار وغیرہ کو قرینہ قرار دیا ہے۔54 مذکورہ آیات سے وحی کے تینوں طریقوں کا کس طرح قرینہ مولوی چراغ علی صاحب نے نکالا ہے اس کی وضاحت ڈاکٹر صاحب موصوف نے نہیں کی ہے۔البتہ مولوی چراغ علی صاحب کی یہ تحریر کرامت علی جونپوری اور سر سید احمد خان کے زیر اثر آنے سے قبل ابتدائی دور کی معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ جس کتاب کی تعریف میں مولوی عبد الحق نے زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں وہاں مولوی چراغ علی صاحب انبیاء کے وحی و الہام کو : قوائے انسانی کا قدرتی نتیجہ ” “پیغمبر کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے منور کر دیا ہے۔” “ اس سے متاثر ہو کر