براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ

by Other Authors

Page 132 of 227

براھین احمدیہ اور مولوی عبدالحق (بابائے اُردو) کا مقدمہ — Page 132

132 براہین احمدیہ : مولوی عبدالحق ( بابائے اردو ) کا مقدمہ اعظم الکلام اس کے تعارف(INTRODUCTION) میں لکھا: "The revelation is a natural product of human faculties۔A prophet feels that his mind is illuminated by God, and the thoughts which are expressed by him and spoken or written under this influence are to be regarded as the words of God۔This illumination of mind or the effect of the Divine influence differ in any prophet according to the capacity of the receipient, or according to the circumstances physical moral, and religious in which he is placed۔" "40 یہ ہیں وہ خیالات جو مولوی چراغ علی صاحب کے وحی و الہام یعنی کلام الہی کے بارے میں تھے اور ان ہی کو مولوی چراغ علی کے نزدیک فرقان مجید کے الہامی ہونے / کلام الہی ہونے پر پیش کیا جا سکتا ہے۔! اس کا ترجمہ مولوی چراغ علی صاحب کے مترجم جیسا کہ اس کتاب کے تبصرہ (نوشتہ مولانا عبد الحق صاحب بی۔اے علیگ 1912ء) صفحہ نمبر 8 پر درج ہے مولوی خواجہ غلام المحسنین صاحب ( مترجم فلسفہ تعلیم ہر برٹ اسپنسر) نے کیا ہے۔موصوف نے اس عبارت کا جو ترجمہ کیا ہے وہ درج ذیل ہے: وحی والہام قوائے انسانی کا قدرتی نتیجہ ہیں۔پیغمبر کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے منور کر دیا ہے اور جو خیالات وہ ظاہر کرتا ہے اور جن کو اس اثر سے متاثر ہو کر تقریر یا تحریر میں لاتا ہے ، وہ “ خدا کے الفاظ ” سمجھے جاتے ہیں۔یہ “نور ”جو پیغمبر کے نفس کو روشن کرتا ہے یعنی فیضانِ الہی کا اثر متاثر ہونے والی کی حیثیت کے لحاظ سے یا اُن جسمانی و اخلاقی و مذہبی حالات کے اعتبار سے جو اس کے گردو پیش ہوتے ہیں، مختلف ہوتا ہے۔41 یہ ہیں وہ خیالات جن کے بارے میں تبصرہ نگار مذکورہ لکھتے ہیں کہ : وہ (مولوی چراغ علی صاحب ) ایک ایسی عظیم الشان خدمت اپنے دین وملت کی ادا کر رہے تھے کہ اس کی مثال اُن کے بعد پھر نہ نظر آئی۔بعض مدعیان حمایت دین وملت کی آنکھیں اب کھلی ہیں۔اور دن ڈھلے پر ایک جدید علم کلام کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں اور اس کے متعلق مشورے اور کمیٹیاں ہو رہی ہیں، لیکن انہیں خبر نہیں کہ مدت ہوئی اس کی بنیاد سرسید ڈال چکے اور مولوی چراغ علی مرحوم اس کی تکمیل بھی کر چکے۔" آگے چل کر اس پر تبصرہ میں لکھتے ہیں : “آئندہ اسلام پر جو کچھ کہا جائے گاوہ زیادہ تر مرحوم ( یعنی مولوی چراغ علی صاحب) کی خوشہ چینی ہو گی۔" 42 واہ خوب! اس عظیم الشان خدمت ”! کے اور خوشہ چینی کی بھی خوب کہی !! گویا مولوی عبدالحق صاحب نے مولوی چراغ علی کی شان میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور عقائد اسلامیہ کو (نعوذ باللہ ) خاک میں ملا دیا ہے !!! لیکن حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ کے بارے میں جس زیر بحث اتہام کو لکھا ہے وہ اس موضوع پر اسی براہین احمدیہ میں نظر ڈالنے سے یکسر مختلف نظر آتا ہے۔1912ء میں جب کہ مولوی عبد الحق صاحب نے یہ تبصرہ لکھا تھا تو دونوں کتابیں براہین احمدیہ (حصہ اول تا حصہ چہارم مطبوعہ 1884-1880) اور تحقیق الجہاد مطبوعہ 1885ء مولوی صاحب موصوف کے سامنے تھیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آپ نے براہین احمدیہ کو کبھی کھول کر دیکھنے کی تکلیف ہی گوارا نہیں کی تھی مگر اپنی حاشیہ آرئیوں کی بیساکھیوں کے ساتھ مولوی چراغ ،،