بیت بازی

by Other Authors

Page 778 of 871

بیت بازی — Page 778

778 ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ خاک آلوده، پراگندہ زبوں حالوں کو کھینچ کر قدموں سے زانو یہ بٹھانے والے خوشاب اور ساہیوال اور فیصل آباد اور سرگودھا بلائے ناگہاں اک نت نیا مولانا آتا ہے خیرات کر اب ان کی رہائی؟ میرے آقا! کشکول میں بھر دے؛ جو مرے دل میں بھرا ہے خموشیوں میں کھنکنے لگی کسک دل کی اک ایسی ہوک دلِ بے نوا سے اُٹھی ہے خوں بار بلکتے ہوئے جھرنوں کی زمیں ہے نوخیز جواں سال تھیلوں کا وطن ہے خدا کلام محمود ے چاہئے ہے لو لگانی خدا نے ہم کو دی ہے کامرانی خدا که فسبح نے لاکھوں نشاں دکھائے؟ عذاب فانی ہیں؟ پر وہ غیر فانی ان الذى اوفى الامــــانــي کے منتظر نہ پھر بھی ایمان لوگ لائے نہیں جو بک ޏ میری کر شفاعت؛ مجھے بھی اب خدا که علم و نور و ھدی کی دولت یہی میری اُس { خُفیہ ہو کوئی بات تو بتلاؤں میں تمہیں خبر لے مسیحا دردِ دل کی ہیں ہائے! یہ تو کیا ہے کرے عنایت؛ التجا ہے وہ طر زحکومت ان کی؛ ہراک پر عیان ہے ترے بیمار کا دم گھٹ رہا ہے ہے خُدایا! اک نظر اس تفتہ دل پر کہ یہ بھی تیرے در کا اک گدا خزاں آتی نہیں زخم زباں پر رہتا آخری دم تک بُرا ہے ۴۳ خُدا کو اس سے مل کر ہم نے پایا وہی اک راہِ دیں کا رہنما ہے ۴۴ خُدا کا قہر اب تم پر پڑے گا کہ ہونا تھا جو کچھ اب ہوچکا ہے خدمت اسلام سے دل سرد ہیں کیا ہی کفر کا بازار ہے یہی بھولے ہوؤں کا رہنما ہے ۴۵ ۴۶ خر اس کے سوا کوئی نہیں ہے ۴۷ خُدا کے واسطے مُسلم ! ذرا تو ہوش میں آ ۴۸ نہیں تو تیری رہے گی نہ آئر و باقی خُدا کو چھوڑنا؛ اے مسلمو ! کیا کھیل سمجھے تھے تمھاری تیرہ بختی؛ دیکھئے کیا رنگ لاتی ہے