بیت بازی — Page 779
779 ۴۹ ۵۰ ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۵ ۵۸ ۵۹ خود ہی جب وید کے پڑھنے سے وہ محروم رہے پھر کسی غیر کو رکس طرح سکھائے کوئی دو چار دنوں کی تو ہوئی؛ پر یہ کیا سال ہا سال مجھے مُنہ نہ دکھائے کوئی خلق و تکوین جہاں راست؛ پر سچ پوچھو تو بات تب ہے؛ کہ میری بگڑی بنائے کوئی نم خانہ دیکھتے تھے جو؛ آنکھوں میں یار کی تھے بے پنٹے کے مُست جو؛ مستانے کیا ہوئے خودسری تیری؛ گر اسلام ہوئی جاتی ہے اُن کی رنجش بھی تو ؛ انعام ہوئی جاتی۔ان پر ہو گیا ہے ہے ملا ہے ۵۴ خُدا کا فضل کلام اللہ کا خلعت خاموشی سی طاری ہے مجلس کی فضاؤں پر فانوس ہی اندھا ہے؛ یا اندھے ہیں پروانے ۵۶ خُدارا! اس کو رہنے دیں سلامت دل مجھ کو دیا تھا؟ آپ ہی نے خُدا ہی نے لگائی پار کشتی اُٹھائے یونہی احساں ناخُدا کے خاک کردے گی کفر کا خاشاک دل سے نکلی ہے جو گھڑاس میرے خُدا کو دیکھ کر بھی تو کبھی خاموش رہتا ہے کبھی اس زشت رو کو دیکھ کر ؛ اے واہ ! کہتا ہے ۲۰ خُدا میرا بدلہ ہے لیتا ہمیشہ جو گزری میرے دل پہ دنیا پہ آئی یہ خُدا جانے ان کو ہے آزادی حاصل کہ ہیں وہ بھی معذور و مجبور ہم خُدا جانے؛ دونوں میں کیا رس بھرا ہے ہم ان سے ہیں؛ اور وہ ہیں مخمور ہم سے خُدا کا قرب پائے گانہ راحت سے نہ غفلت سے یہ درجہ گر ملے گا؛ تو فقط ایثار و محنت سے خُدا سے پیار کر ، دل سے؛ اگر رہنا ہو عزت سے کہ ابراہیم کی عزت تھی ، سب مولیٰ کی خُلت سے ۲۵ خدا سے بڑھ کے تم کو چاہنے والا ؛ نہیں کوئی کسی کا پیار بڑھ سکتا نہیں ہے؛ اس کی چاہت سے خُدایا دور کر دے ساری بدیاں تو میرے دل سے ہوا برباد ہے میراسکوں؛ معقمی کی دہشت سے خُدا کی رحمت سے میر عالم تگ محبت پھڑک رہی افق کی جانب سے اُٹھ رہا ہے دل ایک شعلہ بنا ہوا ۲۸ خُدا کرے اُسے دُنیا و آخرت میں تباہ جو دشمنان محمد سے ساز باز کرے خُدا کرے؛ میری سب عُمر یوں گزر جائے میں اس کے ناز اٹھاؤں؛ وہ مجھ پہ ناز کرے ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ۶۹ ہے؛ ہے