بیت بازی — Page 471
471 11۔۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۵ ۱۱۶ ہے آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا؛ کہ تا باندھے ازار اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیروز بر نالیاں خوں کی چلیں گی؛ جیسے آب رودبار ایک نمونہ قہر کا ہوگا وہ ربانی نشاں آسماں حملے کرے گا؛ کھینچ کر اپنی کٹار انبیاء سے بغض بھی اے غافلو! اچھا نہیں دُورتر بہٹ جاؤ اس سے؛ ہے یہ شیروں کی کچھار ۱۱۴ آسماں پر ان دنوں قہر خدا کا جوش کیا نہیں تم میں سے کوئی بھی رشیدو ہونہار اس نشاں کے بعد ایماں قابل عزت نہیں ایسا جامہ ہے؛ کہ نو پوشوں کا جیسے ہو اُتار اس میں کیا خوبی؛ کہ پڑ کر آگ میں، پھر صاف ہو خوش نصیبی ہو؛ اگر اب سے کرو دل کی سنوار اب تو نرمی کے گئے دن؛ اب خدائے خشمگیں کام وہ دکھلائے گا؛ جیسے ہتھوڑے سے لوہار اس گھڑی شیطاں بھی ہوگا سجدہ کرنے کو کھڑا دل میں یہ رکھ کر کہ حکم سجدہ ہو پھر ایک بار اک کرشمہ سے دیکھا اپنی وہ عظمت؛ اے قدیر جس سے دیکھے تیرے چہرے کو ہر اک غفلت شعار ایسے مغروروں کی کثرت نے کیا دیں کو تباہ ہے یہی غم میرے دل میں ؛ جس سے ہوں میں دلفگار اس قدر کیوں ہے کین و استکبار کیوں خدا یاد سے گیا یک بار چکے مال و جاں بار بار ابھی خوف دل میں؛ کہ ہیں نابکار 112 ۱۱۸ ۱۱۹ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ سے دے اس کا تو فرض ہے؛ کہ وہ ڈھونڈے خدا کا نور تا ہووے شک و شبہ بھی اس کے دل سے دُور در عدن مجیب الدعاء سميع و بصیر قادر و مقتدر علیم و آنکھیں تو کھول، سر تو اُٹھا؟ دیکھ تو ادھر قصر مراد کے کلس آتے ہیں وہ نظر کلام طاهر ابراهیم وقت کا سفیر تھا جسے تسلط آگ پر وہ غلام اُس کے در کا تھا، جس کی آگ تھی غلام در اک برگد کی چھاؤں کے نیچے؟ کیسے کچھ عرض مدعا کرتا؟ اک مسافر پڑا تھا غم سے چور اپنی حاجات کا بھی تھا نہ شعور ۱۲۸ اُس بام سے نور اترے نغمات میں ڈھل ڈھل کر نغموں سے اُٹھے خوشبو ہو جائے سُرود عنبر ۱۲۷