بیت بازی — Page 470
470 ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹ 1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ہے نابکار اے عزیز وا کب تلک چل سکتی ہے کاغذ کی ناؤ ایک دن ہے غرق ہونا بادو چشم اشکبار اے خدا! کمزور ہیں ہم ؛ اپنے ہاتھوں سے اٹھا ناتواں ہم ہیں؛ ہمارا خود اُٹھالے سارا بار اے مرے پیارے ! ضلالت میں پڑی ہے میری قوم تیری قدرت سے نہیں کچھ دُور؛ گر پائیں سدھار اے میرے پیارو! شکیب وصبر کی عادت کرو وہ اگر پھیلائیں بد بو؛ تم بنو مشک تتار افترا ان کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیال، اللہ اکبر کس قدر آنکھ رکھتے ہو؛ ذرا سوچو! کہ یہ کیا راز ہے کس طرح ممکن؛ کہ وہ قدوس ہو کاذب کا یار ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش پر نوح کی کشتی میں جو بیٹھے؛ وہی ہو رستگار اے کہ ہر دم بدگمانی تیرا کاروبار ہے دوسری قوت کہاں گم ہوگئی اے ہوشیار اس تعصب پر نظر کرنا؛ کہ میں اسلام پر ہوں فدا؛ پھر بھی مجھے کہتے ہیں کافر بار بار ایسے کچھ سوئے، کہ پھر جاگے نہیں ہیں اب تلک ایسے کچھ بھولے؛ کہ پھر نسیاں ہوا گردن کا ہار اس کے آتے آتے دیں کا ہو گیا قصہ تمام کیا وہ تب آئیگا؟ جب دیکھے گا اس دیں کا مزار اے خدا! تیرے لئے ہر ذرہ ہو میرا فدا مجھ کو دکھلا دے بہار دیں؛ کہ میں ہوں اشکبار ایک فرقاں ہے جو شک اور ریب سے وہ پاک ہے بعد اسکے ظن غالب کو میں کرتے اختیار افتراء لعنت ہے؛ اور ہرمفتری ملعون ہے پھر لعیں وہ بھی ہے؛ جو صادق سے رکھتا ہے نقار ان نشانوں کو ذراسوچو! کہ کس کے کام ہیں کیا ضرورت ہے؛ کہ دکھلاؤ غضب دیوانہ وار ایسی سرعت سے یہ شہرت ناگہاں سالوں کے بعد کیا نہیں ثابت یہ کرتی؛ صدق قول رکر دگار ۱۰۶ اے خدا! شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ بے شمار۔اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں۔۱۰۵ اک طرف طاعونِ خونی کھا رہا ہے ملک کو ہو رہے ہیں صد ہزاراں آدمی اس کا شکار ایک ہی دم میں ہزاروں اس جہاں سے چل دئے جس قدر گھر گر گئے؛ ان کا کروں کیونکر شمار اس نشاں کو دیکھ کر ؛ پھر بھی نہیں ہیں نرم دل پس خدا جانے؛ کہ اب کس حشر کا ہے انتظار شور ہے؛ پر کچھ نہیں تم کو خبر دن تو روشن تھا؛ مگر ہے بڑھ گئی گردوغبار اک نشاں ہے آنے والا ؛ آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھائیں گے دیہات وشہر اور مرغزار 1۔2 ۱۰۸ آسماں پر