بیت بازی

by Other Authors

Page 312 of 871

بیت بازی — Page 312

312 ہائے! وہ شخص؛ کہ جو کام بھی کرنا چاہے دل میں رہ جائے وہی اُس کے تمنا ہو کر ہے رضائے ذات باری؛ آب رضائے قادیاں مدعائے حق تعالے مدعائے قادیاں ہم بھی کمزور تھے؛ طاقت نہ تھی ہم میں بھی کچھ قول آقا کا مگر ہم سے ہٹایا نہ گیا ہاتھ میں کیوں نہیں وہ زور؛ بات میں کیوں نہیں اثر ؟ چھینی گئی ہے سیف کیوں؟ کاٹی گئی زبان کیوں؟ ہو کے غلام؛ تو نے جب رسم وداد قطع کی اُس کے غلام در جو ہیں ، تجھ پہ ہوں مہربان کیوں ہمیشہ نفس امارہ کی باگیں تھام کر رکھیو گرا دے گا یہ سرگش ورنہ تم کو سیخ پا ہو کر بارش پھیلا رہے خوب اس کا داماں۔آمین ہو عادت مہر و لطف و احساں۔آمین ہو فصل خُدا کی اس مرہم زخم دل ہو ہو عرصه فکر رشک گلشن ہو دونوں جہان میں معرز میدانِ خیال صد گلستاں - آمین ہوں چھوٹے بڑے سبھی ثناخواں۔آمین ۳۲۶ ۳۲۷ ۳۲۸ ۳۲۹ ۳۳۱ ۳۳۲ ۳۳۳ ۳۳۴ ۳۳۵ ۳۳۶ ہے دل سوختہ کی بھاپ طبیب تہ سمجھا بخار رہتا ہے ۳۳۷ ہوتا تھا کبھی میں بھی کسی آنکھ کا تارا بتلاتے تھے اک قیمتی دل کا مجھے پارہ ۳۳۸ ۳۳۹ ۳۴۰ ۳۴۱ ۳۴۲ ہو جاتی تھی موجود ہر اک نعمت دنیا بس چاہیئے ہوتا تھا میرا ایک اشارہ ہے صبر جو جاں سوز ؛ تو فریاد حیاسوز بے تاب خموشی ہے؟ نہ گویائی کا چارہ ہم اُنھیں دیکھ کے حیران ہوئے جاتے ہیں خود بخود چاک گریبان ہوئے جاتے ہیں ترقی پہ مرا جوشِ جنوں ہر ساعت تنگ سب دشت و بیابان ہوئے جاتے ہیں ادھر؟ فکر اُدھر عالم کا چین ممکن ہی نہیں؛ آمن مقدر ہی نہیں لل غم نفس میں اڑ گئے نالے گئیں ہے کار فریادیں ۳۴۳ ۳۴۴ ۳۴۵ ۳۴۶ ہے ہوا ہمارے بیکسوں کا آپ کے دن کون ہے پیارے نظر آتے ہیں مارے غم کے ؛ اب تو دن کو بھی تارے شب اسی اُمید میں سوتا ہوں دوستو ! ہر شاید ہو وصل یار میتر؛ مگر کہاں! وقت جستجو رہتا ہے اب تو منہ پہ مرے بس کدھر، کہاں ۳۴۷ ہچکولے کھا رہی ہے مری ناؤ دیر سے دیکھوں کہ پھینکتی ہے قضا و قدر کہاں ہر لحظه انتظار ہے؛ ہر