بیت بازی

by Other Authors

Page 313 of 871

بیت بازی — Page 313

313 ۳۴۸ ۳۴۹ ۳۵۰ ۳۵۱ ۳۵۲ ۳۵۳ ۳۵۴ ۳۵۵ ۳۵۶ ۳۵۷ ۳۵۸ ۳۵۹ ہے جس کا پھول خوش نما ہے جس کی چال جاں فزا س کی چال جاں فزا میرا چمن وہی تو ہے؛ میری صبا وہی تو ہے ہوں اک عرصہ سے خواہانِ اجازت میرے بارے میں بھی فرمان نکلے ہوا کیا سیر عالم کا نتیجہ پریشاں آئے تھے حیران نکلے ہے زمیں پر سر مرا؛ لیکن وہی مسجود ہے آنکھ سے اوجھل ہے گو؛ دل میں وہی موجود ہے ہے خواہش میری اُلفت کی؛ تو اپنی نگا ہیں اونچی کر تدبیر کے جالوں میں مت پھنس کر قبضہ جا کے مقدر پر ہوا مایوس جب چاروں طرف نہ جب کوشش نے اس کا کچھ بنایا ہو سب میرے عزیزوں پر عنایت ملے تجھ سے انہیں تقویٰ کی خلعت ہر اک ان میں سے ہو شمع ہدایت بتائے اک جہاں کو راز قدرت سمائے علم کے ہوں مہر انور ہوں بحر معرفت کے شناور ہے تیری سعی دلیل حماقت مطلق ہے تیری جد وجہد ایک فعل طفلانہ ہاں اے مغیث ! سُن لے مری التجا کو آج کر رحم اس وُجودِ محبت شعار پر ہاں اُس شہید علم کی تربت پہ کر نزول خوشیوں کا باب کھول؛ غموں کی شکار پر ہے دیکھو! وہ ۳۶۰ ہنس کے کہتا دیکھ کر مجھ کو میرا دل فگار آیا ہے حیات شمع کا سب ماحصل سوز وگداز کا سب ماحصل سوز و گداز اک دِل پرخون ہے یہ اکتساب زندگی ۳۶۱ ۳۶۲ ۳۶۳ ۳۶۴ ۳۶۵ ہے دل میں عشق ؛ پر مرے منہ میں زباں نہیں نالے نہیں ہیں، آہیں نہیں ہیں؛ فغاں نہیں ہزاروں حسرتیں جل کر فنا ہونے کی رکھتا ہے ہٹا بھی دیں ذرا فانوس؛ اک پروانہ آتا ہے اہم کس کی محبت میں دوڑے چلے آئے تھے وہ کون سے رشتے تھے؛ جو کھینچ کے لائے تھے ہے محبت ایک پاکیزہ کمائت؛ اے عزیز! عشق کی عزت ہے واجب ؛ عشق سے کھیلا نہ کر ہے عمل میں کامیابی؟ موت میں ہے زندگی جا لیٹ جا لہر سے؛ دریا کی کچھ پروا نہ کر ۳۶۷ ہر اک چیز پر اُس کو قدرت ہے حاصل ہر اک کام کی اُس کو طاقت ہے حاصل اک شے کو روزی وہ دیتا ہے ہردم خزانے کبھی اس کے ہوتے نہیں گم ۳۶۶ ۳۶۸ ۳۶۹ ہر ہے فریاد مظلوم کی سُننے کی سننے والا صداقت کا کرتا ہے وہ بول بالا