بیت بازی — Page 311
311 ۳۰۶ ۳۰۷ ۳۰۸ ۳۰۹ ۳۱۰ ۳۱۱ ۳۱۲ ۳۱۳ ۳۱۴ ۳۱۵ ۳۱۶ ہمیں نہیں عطر کی ضرورت؛ ہوئے محبت اس کی؛ کہ اس کی خُوشبو ہے چند روزہ اپنے دماغ و دل کو بسائیں گے ہم ہمیں بھی ہے نسبت تاکمند ؛ کسی مسیحا نفس سے حاصل ہوا ہے بے جان گو کہ مسلم مگر اب اس کو چلا ئیں گے ہم جو دیں کو ترچھی نظر سے دیکھا؟ ہماری ان خاکساریوں پر نہ کھائیں دھوکا ہمارے دشمن تو خاک اُن کی اُڑائینگے ہم ٣٠٩ ہم تو جس طرح بنے؟ کام کیے جاتے ہیں آپ کے وقت میں؛ یہ سلسلہ بدنام نہ ہو ہجر کے درد کا درماں نہیں ممکن؟ جب تک برگ اعمال نہ ہوں؛ شربتِ ایمان نہ ہو آئین سماوی کے منافی محمود ہے یہ عشق ہو وصل کا؛ لیکن کوئی سامان نہ ہو ہے وہ صیاد؛ جسے صید سمجھ بیٹھے ہیں ان کی عقلوں سے یہ پردہ تو اُٹھائے کوئی ہم ہیں تیار؛ بتانے کو کمال قرآں خوبیاں وید کی بھی ہم کو بتائے کوئی ہمسری مجھ سے تجھے کس طرح حاصل ہو عدو! حال پر تیرے او ناداں! نظر یار بھی ہو ہیں تو معشوق؛ مگر ناز اُٹھاتے ہیں میرے جمع ہیں ایک ہی جا، حسن و وفا؛ دیکھو تو ے کبھی رویت دلدار؛ کبھی وصل حبیب کیسی عشاق کی ہے صُبح و مسا؛ دیکھو تو ہے کہیں جنگ، کہیں زلزلہ طاعون کہیں لے گرپ کا ہے کہیں شور پڑا؟ دیکھو تو ہے پارہ پارہ چادر تقویٰ مُسلماں کی تیرے ہاتھوں سے ہو سکتی تھی مولی گر رفو ہوتی ہے گالیوں کے ہوا اس کے پاس کیا رکھا غریب کیا کرے مخفی ہے وہ ؛ مصیب ہوں میں ہے عقل نفس سے کہتی ؛ کہ ہوش کر ناداں! میرا رقیب ہے تو ؛ اور تیری رقیب ہوں میں ہو نہ تجھ کو بھی خوشی دونوں جہانوں میں نصیب گوچہ یار کے رستہ کے پھلانے والے ہم تو ہیں صبح و مسا رنج اُٹھانے والے کوئی ہوں گے؛ کہ جو ہیں عیش منانے والے ۳۲ ہجر کی آگ ہی کیا گم ہے جلانے کو مرے غیر سے مل کے میرا دل نہ دُکھائے کوئی ہو کے کنگال جو عاشق ہو رُخ سُلطاں پر حوصلے دل کے وہ پھر کیسے نکالے پیارے! ہم کو اک گھونٹ ہی دے صدقہ میں میخانہ کے پی گئے لوگ مئے وصل کے پیالے؛ پیارے! ۳۱۷ ۳۱۸ ۳۱۹ ۳۲۰ ۳۲۱ ۳۲۲ ۳۲۴ ۳۲۵ ہوئی