بیت بازی — Page 310
310 ۲۸۵ ۲۸۶ ۲۸۷ ۲۸۸ ۲۸۹ ۲۹۰ ۲۹۱ ۲۹۲ ۲۹۳ ۲۹۴ ۲۹۵ ۲۹۶ ۲۹۸ ۲۹۹ ۳۰۰ ۳۰۱ ہم ہو رہے ہیں جاں بلب ؟ بنتا نہیں کوئی سبب ہیں منتظر اس کے؛ کہ کب آئے ہمیں امدادِ ربّ ؛ ہاں سوکھ گیا ہے کونسا کھیت کچھ بولو تو ؛ اشکبار کیوں ہو ہوں تو دیوانہ ؛ مگر بھوں سے عاقل تر ہوں میں ہوں تو بیماروں میں؛ لیکن تیرے بیماروں میں ہوں ہو رہا ہوں مست دید چشم مست یار میں لوگ یہ سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں کے خواروں میں ہوں ہو اس کی قدر میں برکت؛ کمال میں برکت ہو اُس کی شان میں برکت؛ جلال میں برکت ہر ایک کام کو تو سوچ کر بچار کے کر ہمیشہ پائے گا اس دیکھ بھال میں برکت ہے عیش و عشرت دُنیا تو ایک فانی ھے خُدا کرے؟ کہ ہو تیرے مال میں برکت ہو ماند چودہویں کا چاند بھی مقابل پر خُدا وہ بخشے ہمارے ہلال میں برکت ہمارے ہے ہے غضب؛ ہیں ہے علاج کا وہ دعوی کہتے ہیں اپنے آپ کو فصاد شائق بیداد پھر ستم یہ کہ ہیں ستم ایجاد ادھر پاشکستگی کی قید اور ادھر سر آگیا صیاد ہاں! تیری رہ میں ایک دوزخ ہے جس میں بھڑکی ہے نار بغض و عناد ۲۹۷ ہے دست قبلہ نما؛ لا اله إلا الله ہے درددل کی دواء لا إله إِلَّا الـــــــه گاتی نغمہ توحید نے ئیستاں میں ہے کہتی بادصبا؛ لا إله إلا الله ہے ہزاروں ہوں گے حسیں؛ لیک قابل اُلفت وہی ہے میرا پیا؛ لا إلهَ إِلَّا الله ہزاروں، بلکہ ہیں لاکھوں علاج روحانی لاکھوں علاج روحانی مگر ہے رُوحِ شفا؛ لا إلهَ إِلَّا الـــــــه ہوئی ہے بے سبب کیوں عاشقوں کی جان کی دشمن نسیم صبح اُن کے مُنہ سے کیوں آنچل اُٹھاتی ہے ہمارا امتحاں لے کر ؛ تمھیں کیا فائدہ ہوگا ہماری جان تو بے امتحاں ہی نکلی جاتی ہے ہماری خاک تک بھی اُڑ چکی ہے اُس کے رستہ میں ہلاکت! تو بھلا کس بات سے ہم کو ڈراتی ہے ہمارے حال خراب پر گوہنسی انھیں آج آ رہی ہے مگر کسی دن ؛ تمام دنیا کو ساتھ اپنے رُلائیں گے ہم سارا زمانہ دشمن؛ جو تو نے بھی ہم سے بے رخی کی؟ ۳۰۲ ٣٠٣ ۳۰۴ ۳۰۵ ہوا ہے ہیں اپنے بیگانے خُوں کے پیاسے تو پھر تو بس مر ہی جائینگے ہم