بیت بازی — Page 268
268 ۵۷۱ مال خود، برباد و ویراں؛ مال دیگر پر نظر منزل آخر سے غافل ؛ پھر رہے ہیں در بدر ۵۷۲ مٹ جائے دل سے زنگِ رذالت؛ خُدا کرے آجائے پھر سے دور شرافت؛ خُدا کرے ۵۷۳ مل جائیں تم کو زہد و امانت؛ خُدا کرے مشہور ہو تمہاری دیانت؛ خُدا کرے ۵۷۴ مل جائے تم کو دین کی دولت؛ خُدا کرے چمکے فلگ تاره قسمت؛ خُدا کرے ۵۷۵ منظور ہو تمہاری اطاعت؛ خُدا کرے مقبول ہو تمہاری عبادت؛ خُدا کرے محبت رہے زندہ؛ تیرے ہی دم تو مشہور عالم ہو، مہر و وفا میں ۵۷۶ ۵۷۷ مساوات ۵۷۸ ۵۸۱ اسلام قائم کرو تم رہے فرق باقی نه شاه و گدا میں میری آنکھیں نہ ہٹیں آپ کے چہرہ سے کبھی دل کو وا رفتہ کریں؛ محو تماشا کر دیں وم ۵۷۹ میں بھی اُس سید بطحا کا غلامِ دَر ہوں سے روشن مرے بھی وادی بطحا کر دیں ۵۸۰ منتظر بیٹھے ہیں دروازہ پر عاشق اے رب! تھوک دیں غصہ کو؛ دروازہ کو پھر وا کر دیں میرے قدموں پر کھڑے ہو کے تجھے دیکھیں لوگ آپ ابرام! مجھے اس کا مصلے کر دیں ۵۸۲ مجھ سے کھویا ہوا ایمان؛ مسلماں پا لیں ہوں تو سفلی ؛ یہ مجھے آپ ٹریا کر دیں ۵۸۳ مقصد خلق بر آئے گا؟ یہی تو ہوگا اندھی دنیا کو اگر فضل سے بینا کر دیں ۵۸۴ میں تہی دست ہوں؛ رکھتا نہیں کچھ راس عمل جو نہیں پاس میرے؛ آپ مہیا کر دیں ۵۸۵ میرے آقا! پیش ہے یہ حاصلِ شام و سحر سینۂ صافی کی آہیں؛ آنکھ کے لعل و گہر میں نے سمجھا تھا جوانی میں گزر جاؤں گا پار آب جو دیکھا سامنے؛ ہیں پھر وہی خوف وخطر مومن کامل کا گھر ہے؛ جنّتِ اعراف میں اور دوزخ کا مکیں ہے جو بنا ہے من گھر میرے ہاتھوں میں نہیں ہے نیک ہو یا بک ہو وہ ملک میں تیری ہے یا رب! خیر ہو وہ یا کہ شر ملا ہے علم سے مجھ کو نہ کچھ اپنی لیاقت سے ملا ہے مجھ کو جو کچھ بھی ؛ سومولی کی عنایت سے مرے ہاتھوں تو پیدا ہوگئی ہیں اُلجھنیں لاکھوں جو مجھیں گی تو سمجھیں گی ، ترے دستِ مُروت سے ۵۹۱ مرا سردار کوثر بانٹنے بیٹھا ہے جب پانی تو دل میں خیال تک مت لا ؛ کہ وہ بانٹے گا خشت سے مسیحا کیلئے لکھا ہے وہ شیطاں کو مارے گا نہ مارے گا وہ آئین سے ؛ کرے گا قتل محبت سے ۵۸۶ ۵۸۷ ۵۸۸ ۵۸۹ ۵۹۰ ۵۹۲