بیت بازی — Page 269
269 ۵۹۳ ۵۹۴ ۵۹۵ ٥٩ مری بخشش تو وابستہ ہے تیری چشم پوشی سے الہی! رحم کر مجھ پر ؛ مرا جاتا ہوں خفت سے مجھے تو اے خُدا! دنیا میں ہی تو بخش دے جنت تسلی یا نہیں سکتا قیامت کی زیارت سے مشام جان مُعطر کرے گی جو خوشبو مہک رہی ہے وہی میرے بوستاں سے آج میں نے پوچھا جو ، ہو کیوں چُپ ؛ تو تنک کر بولے ہم بھرے بیٹھے ہیں؛ جانے بھی دے، کیا کرتا ہے ۵۹۷ میں تو بیداری میں رکھتا ہوں سنبھالے دل کو جب میں سو جاؤں؛ تو یہ آہ و بکا کرتا ہے میرے مسیح! تیرا تقدس کمال ہے بے دین تھے جو آج دیندار ہوگئے ۵۹۹ مولا کی مہربانی تو دیکھو! کہ کس طرح جو تابع فرنگ تھے؛ سرکار ہو گئے ۵۹۶ ۵۹۸ ۶۰۰ ۶۰۱ مایوس نه ہو؛ تم جتنا ڈوبو اتنی امید بڑھاتے جاؤ مٹ جاؤں میں ؛ تو اس کی پروا نہیں ہے کچھ بھی میری فنا سے حاصل گر دین کو بقا ہو ۲۰۲ محمود عمر میری گٹ جائے کاش یونہی ہو رُوح میری سجدہ میں؛ سامنے خُدا ہو میں تم سے ہوں تم مجھ سے ہوئن ایک ہے جاں ایک کیوں چھوڑتے ہو تم مجھے بیگانہ سمجھ کر مسلم بے چارہ قید عیسوی میں ہے پھنسا یہ خُدائی کفر کی ہے؛ یا خُدائی آپ کی میری اُلفت بڑھ کے ہر اُلفت سے ہے تیری رہ میں مرنے پر آمادہ ہوں ۶۰۳ ۶۰۴ ۶۰۶ ۶۰۷ ۶۰۸ ۶۰۹ ۶۱۰ ۶۱۱ ۶۱۲ ۶۱۳ ۶۱۴ میرے تیرے پیار کا ہو راز داں کوئی : اور مجھے تو اس سے غرض ہے؛ کہ راضی ہو دلبر یہ کام قیس کرے؛ یا کوئی ایاز کرے مثال سنگ بحر سعی پیہم میں پڑا رہتا نہ کچھ پرواه ہوتی؛ پاس رہتا، یا جدا رہتا مگر یہ کیا کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر تو نے لگا دی آگ؛ اور وقف تمنا کر دیا مجھ کو میرا تو کچھ نہیں ہے؛ اُسی کا ظہور ہے فانوس ہوں میں؛ اور خُدا اِس کا نور ہے میں تو بندہ عشق ہوں؛ مجھے تو صاحب! دلبر کی محبت میں مزا آتا ہے سے آوازہ توحید اُٹھا دیکھنا دیکھنا! مغرب سے ہے خورشید اُٹھا مرے جان و دل کے مالک ! مری جاں نکل رہی ہے تیری یاد؛ چٹکیوں میں، مرے دل کو مل رہی ہے مغرب کا ہے بچھونا؛ تو مغرب کا اوڑھنا اسلام کی تو کوئی بھی اب خُو نہیں رہی مرکز شرک