بیت بازی — Page 267
267 ۵۴۹ مجھ کو رہتی ہے ہمیشہ اس کے ہاتھوں کی تلاش فکر رہتی ہے تجھے صبح و مسا گف گیر کی ۵۵۰ میں تری راہ میں مرمر کے جیا ہوں سو بار موت سے مجھے کو وہ رغبت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں ہے ۵۵۱ میں بھی کمزور؛ میرے دوست بھی کمزور تمام کام میرے تو سبھی میرا خُدا کرتا ۵۵۲ مُردہ دلوں کے واسطے؛ ہر لفظ ہے حیات میری صدا نہیں؛ یہ فرشتوں کا صور ہے ۵۵۳ ۵۵۴ ۵۵۵ ۵۵۹ ملمع ساز اس کو ڈھونڈتے پھر تے ہیں دُنیا میں مگر وہ عاشق صادق کے پہلو سے نکل آیا محمود بن گئے وہ بنے جب ایاز ہم اُٹھ گئے گر تم گرد گھوما کرے گی پاس میرے میدانِ عشق میں ہیں رہے پیش پیش میرے پہلو سے وہ تھا ہے موتی تو ہیں؛ پر اُن کو پرونا نہیں آتا آنسو تو ہیں آنکھوں میں؛ پہ رونا نہیں آتا میں لاکھ جتن کرتا ہوں؛ دل دینے کی خاطر پر اُن کی نگہ میں یہ کھلونا نہیں آتا ۵۵۸ مٹی پانی کا ایک پھلا بھر گئی کیسے پھر بشر میں آگ مسلمانی ہے؛ پر اسلام سے ناآشنائی ہے نہیں ایمان کسی؛ باپ دادوں کی کمائی منجدھار میں ہے کشتی ڈبوئی خرد نے آہ کیا پایا میں نے خصلت رندانہ چھوڑ کر ۵۶۱ ملک و بلاد سونپ دیے دشمنوں کو سب بیٹھے ہو گھر میں؛ حصلَتِ مردانہ چھوڑ کر میں خود اپنے گھر کا بھی مالک نہیں ہوں ہے غیروں کے ہاتھوں میں میری بڑائی ۵۶۰ ۵۶۲ ۵۶۳ مرا کام جلتی ه پانی چھڑ کنا رقیبوں کا ۵۷ محمد کی امت مسیحا کا لشکر ۵۶۴ ۵۶۶ حصہ لگائی بجھائی پہیلی یہ میری سمجھ میں نہ آئی ۵۶۵ مبارک ہو ڈارون کو ہی رشتہ قرابت نہیں رکھتے لنگور ہم سے میں نے مانا مرے دلبر! تری تصویر نہیں تیرے دیدار کی کیا کوئی بھی تدبیر نہیں ۵۶۷ مجھ سے وحشی کو کیا ایک اشارے میں رام کیا یہ جادو نہیں؛ کیا رُوح کی تسخیر نہیں ۵۷۸ کر رہا ہے بھوک کی شدت سے بے چارہ غریب ڈھانکنے کوشن کے؛ گاڑھا تک نہیں اُس کو نصیب موت جس کے پاس ہے؛ ہے وہ تو محرومِ دَوا اور جو محفوظ ہیں؛ اُن کو دوائیں ہیں نصیب ۵۷۰ مال سے ہے جیب خالی ؛ علم سے خالی ہے سر یا د خالق سے ہے غفلت؛ رہتی ہے فکر دگر ۵۶۹