بیت بازی — Page 154
154 ۷۳ ۷۴ راہ مولیٰ میں جو مرتے ہیں؛ وہی جیتے ہیں موت کے آنے سے پہلے ہی فنا ہو جاؤ رحمت کی طرف اپنی جگہ کیجئے آقا! جانے بھی دیں؛ کیا چیز ہیں یہ میری خطائیں ۷۵ روتے روتے ہی؛ کٹ گئیں راتیں ذکر میں ہی بسر ہوئیں راتیں جس کیلئے تڑپتی تھی اس کا جلوہ دکھا دیا تو نے روح ہو رغبت دل سے ہو؛ پابند نماز و روزه نظر انداز؛ کوئی حصہ احکام نہ رت افواج خود آتا ہے تیری نصرت کو باندھ لے اپنی کمر بندہ حرمان نہ ہو رہ چکے پاؤں؛ نہیں جسم میں باقی طاقت رحم کر؛ گود میں اب مجھ کو اُٹھالے پیارے! ۸۰ رہ گیا سایہ سے محروم ہوا بے برکت سرو نے کیا لیا؛ احباب سے اونچا ہوکر راتیں تو ہوا کرتی ہیں؛ راتیں ہی ہمیشہ پر ہم کو نظر آتے ہیں اب دن کو بھی تارے و ΔΙ ۸۲ ۸۳ ΛΥ رہی ہے نہ تیری نہ شیطان کی وہ کچھ ایسی ہے بگڑی؛ خدایا خدائی روزہ نماز میں کبھی کٹتی تھی زندگی اب تم خدا کو بھول گئے؛ انتہا یہ ہے ۸۴ راتوں کو آکے دیتا ہے مجھ کو تسلیاں مرده خدا کو کیا کروں؛ میرا خدا یہ ہے رقیبوں کو آرام و راحت کی خواہش مگر میں تو کرب و بلا چاہتا ہوں رقیبوں سے بھی چھیڑ جاری رہے گی تعلق رہے گا بدستور ہم سے رہ گئے منہ ہی تیرا دیکھتے وقت رحلت ہم پسینہ کی جگہ خون بہانے والے رہتی ہیں بے شمار کیوں؟ تیری تمام محنتیں؟ تیری تمام کوششیں؛ جاتی ہیں رائیگان کیوں؟ رنگ بھی، روپ بھی ہو،حُسن بھی ہو، لیکن پھر فائدہ کیا ہے سیرت انسان نہ ہو رونق مکاں کی ہوتی ہے اس کے مکین سے اس دلربا کو دل میں بسانا ہی چاہئے رہو خدا کی قضا پر ہمیش تم لب پر نہ آئے حرف شکایت؛ خدا کرے روک مجھ میں، اور تجھ میں ، پھر نہ کچھ باقی رہے ایک میں ہوں پینے والا ؛ ایک تو ساقی رہے ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ راضی اگر روح اسلام ہوگئی محصور کفر کا رسول الله ہمارے پیشوا ہوں دیو؛ ہو گیا ملے توفیق ان کی اقتداء کی آزاد ۹۳ ۹۴