بیت بازی — Page 155
155 ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸ ۹۹ 1۔۔1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ ۱۰۴ ۱۰۵ ۱۰۶ ۱۰۷ ۱۰۸ 1+9 11۔رحم کرتا ہے ہمیشہ ہی وہ ہم بندوں پر کرسٹی عدل پر بیٹھے گا جو روز محشر رہ خدا میں ہی جاں فدا ہو دل عشق احمد میں مبتلا ہو اسی پہ ہی میرا خاتمہ ہو ؛ یہی مرے دل کا مدعا ہے رنج و غم و ملال کو؛ دل سے بھلا دیا جو داغ دل پہ اپنے لگا تھا؛ مٹا دیا رہتی ہے چاک جیب شکیبائی ہر گھڑی رعب دامان صبر رہتا ہے؛ ہر دم پھٹا ہوا رنج فراق گل؛ نہ کبھی ہو سکے بیاں میرے مقابلے میں ہزاروں ہزار ہو رنگ آجاتا ہے اُلفت کا؛ نگاہوں میں تری ورنہ کیا کام تیرے رِندوں کا؛ برساتوں سے حسن شہر خوباں کو؛ ذرا دیکھو تو ہاتھ باندھے ہیں کھڑے، شاہ و گدا؛ دیکھو تو رہ سے شیطان کو جب تک نہ ہٹائے کوئی اس کے ملنے کیلئے؛ کس طرح آئے کوئی رسائی کب تھی ہم کو آسماں تک جو اُڑتے بھی؛ تو ہم اُڑتے کہاں تک رحم کرنا تو کجا ظلم ہوا تھا پیشہ لوگ بھولے تھے؛ کہ ہے نام مروّت کس کا رہے حسرتوں کا پیارے میری جاں شکار کب تک تیرے دیکھنے کو تر سے دل بے قرار کب تک روز روشن میں لٹا کرتے تھے؛ لوگوں کے مال دل میں اللہ کا تھا خوف؛ نہ حاکم کا خیال رہے وفا وصداقت پہ میرا پاؤں مدام ہو میرے سر پہ مری جان! تیری چھاؤں مدام رازداں ؛ اُس کی شکایت ہو اُسی کے آگے اُس کی تصویر کو؛ آنکھوں سے ہٹائوں، تو کہوں یونہی عبث میں گنوائیں آنکھیں ہیں؛ رہا الگ ہمارا وہ يوسف نہ اُس کا دامن بھی چھو سکے ہم اشک خونیں بہا بہا کر رہیں ہم دُور ہر بدکیش و بد سے رہے محبت ہمیں اہل وفا کی رہتی آپس میں بھی ہر وقت تھی اُن کی کھٹ پٹ تھے وہ بتلاتے ہر اک دوسرے کو ڈانٹ ڈپٹ