بیت بازی

by Other Authors

Page 153 of 871

بیت بازی — Page 153

153 ۵۲ ۵۳ ۵۴ جلیل کی تیرا دل جلوہ گاہ ہے سینہ تیرا جمال الہی کا مستقر کلام محمود نیک طینت اور اچھا روئیں روئیں میں سما جائے عشق خالق حسن ظہور جس سے کرے؛ بال بال میں برکت رند مجلس نظر آئیں؛ نہ کبھی یوں مخمور جام اسلام میں گر بادۂ عرفان نہ ہو رسم مخفی بھی رہے؛ الفتِ ظاہر بھی رہے ایک ہی وقت میں؛ اخفا بھی ہو، اظہار بھی ہو ۵۶ رشیدہ؛ جس کو حق نے رُشد بخشا بنایا ۵۷ رنگ اُسی کا چھلک رہا تھا؛ آہ! گف ساقی میں ساغر کے میں رفتہ اُلفت میں باندھے جا رہے ہیں آج لوگ توڑ بھی؟ کیا فائدہ ہے اس تیرے زنار کا ۵۹ روح فاقوں سے ہو رہی ہے نڈھال ہم کو پھر نعمت حجازی بخش ۵۸ ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ روح اقدام رحمت و دور بین نگاه و نگاه بازی بخش قلب شیر رَدَّ عَلَى الأَرْضِ كَنُوراً صِحَابُهُ فُتِنَ اليَهُودُ بَبَعْلِهَا وَ بِفُومِهَا ٢٣ رُفِعَت بُيُوتُ المُؤمِنينَ رَفَاعَةٌ خُسِفَ البَلادُ بفُرسِهَا وَ بِرُومِهَا ربین عشق کو کیف مدام سے کیا کام پلائیے مجھے آنکھوں پلائیے مجھے آنکھوں سے؛ جام سے کیا کام کے چھینٹے دینے پہ؛ صد شکر و امتنان دل کیلئے بھی؛ پر کوئی انگارہ چھوڑ دے رنج ہو، غم ہو؛ کوئی حال ہو، خوش رہتا ہوں دل میں کچھ ایسی طراوت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں رنگ وفا دِکھاتے ہیں ادنی وخوش بھی دوستوں کا؛ کچھ تمھیں کھانا ہی چاہیئے رُوحِ انسانی کو جو بخشے چلا؟ ہے اکسیر میں کو چھو کر جو طلاء کر دے؛ وہ اکسیر نہیں ۶۸ روز و شب قرآن میں فکر و تدبر ؛ مشغلہ اُن په دروازہ کھلا ہے؛ دین کے اسرار کا گیروں کو بچانے کیلئے؛ ظلمت میں شمع اک تُو نے جلائی تھی؛ ہے تیرا احساں ره سداد نہ تفریط ہے؟ نہ ہے خدا نے رکھی ہے بس اعتدال میں برکت رہوہ کو تیرا مرکز توحید بنا کر اک نعرہ تکبیر فلک بوس لگائیں ربوہ رہے؛ کعبہ کی بڑائی کا دُعا گو کعبہ کو پہنچتی رہیں؛ ربوہ کی دعائیں ۶۷ ۶۹ ۷۰ اے ۷۲ راہ افراط