بیت بازی

by Other Authors

Page 112 of 871

بیت بازی — Page 112

112 ۳۵۴ جس میں حصہ نہ ہو میرے دیں کا کیسے بھائے وہ آب و تاب مجھے ۳۵۵ جادو ہے میری نظروں میں تاثیر ہے میری باتوں میں میں سب دنیا کا فاتح ہوں؛ ہاتھوں میں مگر تلوار نہیں ۳۵۶ وہ جن معنوں میں وہ کہتا ہے تمہا بھی ہے جتنا بھی ہے جن معنوں میں تم کہتے ہو؛ قہار نہیں، بہار نہیں ۳۵۷ جاں میری گھٹتی جاتی ہے؛ دل پارہ پارہ ہوتا ہے تم بیٹھے ہو چُپ چاپ جو یوں کیا تم میرے دلدار نہیں جو اُس کی ذات میں کھو بیٹھے اپنی ہستی کو اُسے ہو اپنے پرایوں کے نام سے کیا کام ۳۵۸ ۳۵۹ ۳۶۰ ۳۶۱ ۳۶۲ ۳۶۳ ۳۶۴ ۳۶۵ ۳۶۶ ۳۶۸ جو ہولی کھیلتے رہتے ہیں خونِ مسلم جن کو عقمی کا فکر رہتا جو ޏ ہو انہیں وفا و وفاق و نظام سے کیا کام ہیں مگر خال خال ہیں ایسے جل کے رہ جاتے ہیں تمام افکار دل کے اندر اُبال ہیں ایسے که شرمندہ جواب نہیں ان کے دل میں سوال ہیں ایسے جو دل پہ زخم لگے ہیں؛ مجھے دیکھا تو سہی ہوا ہے حال تیرا کیا؟ مجھے سُنا تو سہی جو دشت وکوہ بھی رقصاں نہ ہوں؛ مجھے کہیو تو اس کی سُر سے ذرا اپنی سر ملا تو سہی جسم ایماں ؛ سعی و کوشش سے ہی پاتا ہے نمو آرزوئے بے عمل ؛ کچھ بھی نہیں ، اک خواب ہے جن کے سینوں میں نہ دل ہوں؛ بلکہ پتھر ہوں دھرے کیا پہنچ ان تک ہمارے نالۂ دلگیر کی ۳۶ جستجوئے نس نہ کر، تو دوسرے کی آنکھ میں فکر کر نادان! اپنی آنکھ کے شہتیر کی جنت میں ایسی جنس کا جانا حرام ہے اپنے ذنوب کا یہیں پھتارہ چھوڑ دے جو کچھ بھی دیکھتے ہو؛ فقط اُس کا نور ہے ورنہ جمال ذات تو کوسوں ہی دُور ہے جو نہی دیکھا اُنھیں؛ چشمہ محبت کا اُبل آیا درخت عشق میں مایوسیوں کے بعد پھل آیا جب وہ بیٹھے ہوئے ہوں پاس میرے پاس آئے ہی کیوں ہراس میرے جو کام کا تھا وقت؛ وہ رورو کے گزارا آب رونے کا ہے وقت؛ تو رونا نہیں آتا جو راحت ہو؛ تو منہ راحت رساں سے موڑ لیتا ہے مصیبت ہو، تو اس کے در پہ سر تک پھوڑ لیتا ہے جہانِ فلسفہ کی علیموں کا چارہ گر ہے تو مگر جو آنکھ کے آگے ہے؛ اس سے بے خبر ہے تو ۳۷۵ جس کی تھی چیز؛ اُسی کے ہی حوالے کر دی دے کے دل خوش ہوں میں ؛ اس بات پر دلگیر نہیں ۳۶۹ ۳۷۱ ۳۷۲ ۳۷۴