بیت بازی

by Other Authors

Page 113 of 871

بیت بازی — Page 113

113 ۳۷۷ ۳۸۰ ۳۸۱ ۳۸۲ ۳۸۳ عقمی جس پر عاشق ہوا ہوں میں؛ وہ اسی قابل تھا خود ہی تم دیکھ لو؛ اس میں میری تقصیر نہیں جب و با آئے تو پہلے اس سے مرتے ہیں غریب مال داروں کو مگر لگتے ہیں شیکے؛ ہے عجیب ، جو بھی کچھ ہے، غیر کا ہے؛ ان کی حالت ہے تو یہ دولت سے خالی؛ نعمت دنیا حرام جس نے فضل ایزدی کی راہیں سب مسدود کیں ہے اسی ملا کو مسلم نے بنایا راہ نما جن کو بیماری لگی ہے؛ وہ ہیں غافل سور ہے پر یہ ان کی فکر میں ہیں؛ سخت بے گل ہورہے جن کو سمجھی تھی بُرا دنیا؟ وہی تیرے ہوئے شیر کی مانند اُٹھے ہیں؛ وہ اب پھرے ہوئے جس نے ویرانوں کو دنیا کے کیا ہے آباد بستی وہ تو نے بسائی تھی؛ ہے تیرا احساں جس کی گرمی سے میری رُوح ہوئی ہے پختہ تو نے وہ آگ جلائی تھی؛ تو نے وہ آگ جلائی تھی؛ ہے تیرا احساں ۳۸۴ جن کو حاصل تھا تقرب ؛ وہ ہیں اب معتوب دہر اور ہیں مسند پر بیٹھے؛ جو میں کچھ اور کر جنھوں نے پائی ہے اللہ کی کوئی شریعت بھی اُنھیں تو ٹھیک کر سکتا نہیں؛ پر حق وحکمت سے جو دل کو چھید دے جا کر عدو مسلم کے وہ تیر نکلے الہی! مری کماں سے آج ۳۸۷ جلا کے چھوڑیں گے اعدائے کینہ پرور کو نکل رہے ہیں جو شعلے ؛ دل کہاں سے آج جو قلب مومن صادق سے اُٹھ رہی ہے دُعا اُتر رہے ہیں فرشتے بھی؛ کہکشاں سے آج جوش ابرہہ کو تہس نہس کر دے گی اُڑے گی فوج طیور اپنے آشیاں سے آج جب آئے ، دل میں آؤ! اور جو چاہو کہو اس سے یہ وہ در ہے کہ جس کا کوئی حاجب ہے نہ ہے درباں جناب مولوی تشریف لائیں گے؛ تو کیا ہوگا وہ بھڑکائیں گے لوگوں کو؛ مگر اپنا خُدا ہوگا جو اس کا مال لوٹے گا؛ وہ ہوگا داخل جنت جو حملہ اس کی عزت پر کرے گا؛ باصفا ہوگا ۳۹۳ جو اس کے ساتھ چھو جائے ؟ اچھوتوں کی طرح ہوگا جو اس سے بات کر لے گا؛ وہ شیطاں سے بُرا ہوگا ۳۸۵ ۳۸۶ ۳۸۸ ۳۸۹ ۳۹۰ ۳۹۱ ۳۹۲ ۳۹۴ جو اپنی زندگی؛ اُن کی غلامی میں گزارے گا بنے گا رہنمائے قوم؛ فخر الانبیاء ہوگا ۳۹۵ جن میں ہوتا ہے وصلِ یار نصیب ایسی بھی ہوتی ایسی بھی ہوتی ہیں کہیں راتیں ہے یار کا دیدار ہیں راتیں ۳۹۶ جن کو ہوتا انہیں کیلئے بنی ۳۹۷ جن میں موقع ملے تہجد کا ہوتی ہیں بس وہ بہتریں راتیں