بیت بازی — Page 101
101 ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۶ ۱۳۷ ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۴۰ ۱۴۱ و ناصر جدا از یار عزیزم مدان عزتِ من رسیده نور ز آن آفتاب طلعت من جان پڑ جاتی تھی جن سے؛ وہ قدم ملتے نہیں قالب بے روح سے ہیں؛ کوچہ ہائے قادیاں جانِ جہاں! تجھی پہ تو زیبا ہے ناز بھی یہ کیا! کہ چند روز کی حالت پہ ناز ہے ۱۳۵ جن کی بہادری کی بندھی دھاک ہر طرف تن تن کے چل رہے ہیں؛ شجاعت پہ ناز ہے جاتے ہو مری جان! خدا حافظ و ناصر اللہ نگہبان؛ خدا حافظ جو کود پڑا اس میں؛ کھلا بھید یہ اس پر پوشیدہ ہے فردوس؛ سید غارِ محبت جو دُور ہیں؛ وہ پاس ہمارے کب آئیں گے دل جن کو ڈھونڈتا ہے؛ وہ پیارے کب آئیں گے جو سر کو ختم کئے تری تقدیر کے حضور تیری رضا کو پاکے سدھارے کب آئیں گے جہاں کام دے گی نہ اے بی، نہ سی ڈی وہاں کام آئے گا قرآن طیب جو ٹوٹ کر گئے ہیں اسی آسمان سے پھر لوٹ کر ادھر وہ ستارے کب آئیں گے جب مجھ کو نہ پائیں گے؛ تو گھبرائیں گے دونوں یارب! میری امی کے پسر تیرے حوالے جب دل صافی میں دیکھا عکس روئے یار کا بن گیا وہ بہر عالم آئینہ ابصار کا جس نے دیکھا اس کو اپنی ہی جھلک آئی نظر مدتوں جھگڑا چلا دنیا میں نور و نار کا جھوٹ کے منہ سے اتر نے جب لگی پھٹ کر نقاب ہو گیا دشوار سینا اس کے اک اک تار کا جو رہن ہوچکی ابلیس کے خزانے میں روح نذرِ شہنشاہ انبیاء کیلئے؟ ۱۴۷ جھلسے گئے ہیں سینہ ودل جاں بلب ہیں ہم جھڑیاں کرم کی؛ فضل کی برسات چاہیئے جسمِ اطہر کے قریں مرغانِ بسمل کی تڑپ ہو رہی تھی روح اقدس داخلِ خُلدِ بریں جس طرف دیکھا؟ یہی حالت تھی ہر شیدائی کی سر بہ سینہ چشم باراں پشت خم، اندوہ گیں جو تیرے عاشق صادق ہوں ؛ فخر آل احمد ہوں الہی ! نسل الہی! نسل سے میری تو وہ انسان پیدا کر ۱۴۲ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۵ ۱۴۶ ۱۴۸ ۱۴۹ ۱۵۰ ۱۵۱ وہ جواں مردے ز مـــــردان مــحــمــد غلامی از غلامـــــــان مــحــمــد ۱۵۲ جنت کے در کھلے ہیں؛ شہیدوں کے واسطے رحمت خدا کی آئے گی خود پیشوائی کو جو اس نے نور بھیجا تھا جہاں میں ہوا واصل به رب جاودانی ۱۵۳