بیت بازی

by Other Authors

Page 102 of 871

بیت بازی — Page 102

102 ۱۵۴ ۱۵۵ ۱۵۶ جب سے تجویز سفر تھی؛ سب تھے مصروف دعا خود امیر المومنیں اور ہر غلام با وفا کلام طاهر ۱۵ جسم اُس کا ہے؟ سب انداز مگر غیر کے ہیں آنکھ اس کی ہے؛ پر اطوار نظر غیر کے ہیں جا کہ اب قرب سے تیرے، مجھے دُکھ ہوتا ہے اے شب غم کے سویرے! مجھے دُکھ ہوتا ہے جیو، تو کامراں جیو؛ شہید ہو، تو اس طرح کہ دین کو تمہارے بعد؛ عمر جاوداں ملے ۱۵۸ جب سے خدا نے ان عاجز کندھوں پر بار امانت ڈالا راہ میں دیکھو کتنے کٹھن اور کتنے مہیب مراحل آئے ܙ ۱۵۹ جاؤں ہر دم تیرے وارے؛ تو نے اپنے کرم میرے جانی میرے پیارے خود ہی کام بنائے میرے؛ سارے ۱۶۰ 171 ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۴ ۱۶۵ 177 جن کو نور کر گیا عطا؛ وہ خدا کا بے ریا بشر وہ فقیر، جس کی آنکھ میں، نورِ مصطفیٰ تھا جلوہ گر جس سے وادیوں میں طرف؛ ہر ہر گھڑی ہوں تجھے بہہ رہی رود ہے سبز پوش اے بار حُسن گل ثار؛ نگار حُسن جس کی دعا؛ ہر زخم کا مرہم صلى الـــلــــه عليــــه وســلــم جو اس کی سرکار میں پہنچا؟ اس کی یوں پلٹادی کا یا جیسے کبھی بھی خام نہیں تھا؛ ماں نے جنا تھا گویا کامل جانے کس فکر میں غلطاں ہے میرا کافر گر ادھر اک بار جو آ نکلے کہیں؛ آج کی رات ١٦٤ جن پہ گزری ہے وہی جانتے ہیں؟ غیروں کو کیسے بتلائیں، کہ تھی کتنی حسیں؛ آج کی رات جب دہریت کے دم سے مسموم تھیں فضائیں پھوٹی تھیں جابجا جب الحاد کی وبائیں جو چاہیں کریں؛ صرف نگہ ہم سے نہ پھیریں جو کرنا ہے کر گزریں؛ مگر اپنا بتا کے جیلوں میں رضائے باری کے جو گہنے پہنے بیٹھے ہیں اُن راہ خدا کے اسیروں کی اُن معصوموں کی باتیں کر اے دیس سے آنے والے بتا! خائب و خاسر ہوگا ہر شیطان وطن کس حال میں ہیں یارانِ وطن ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۶۹ ۱۷۰ 121 جیتیں جو گے : ملائک کھنڈر تھے؛ محل بنائے گئے کتنے محلوں کے کھنڈرات بنے جہاں اہلِ جفا؛ اہلِ وفا پر وار کرتے ہیں سردار اُن کو ہر منصور کو لٹکا نہ آتا ہے