بیت بازی

by Other Authors

Page 100 of 871

بیت بازی — Page 100

100 درٌ عَدَن جھنڈا رہا بلند؛ محمد کے دین کا ذلت جو چاہتے تھے؛ کبھی خوار ہو گئے جو مجھے چاہتے تھے چاہ کو پہچانتے تھے ان کی فرقت کی وہ تنویر کہاں سے لاؤں؟ جاتا ہے وقت ہاتھ سے؛ دن گزرے جاتے ہیں عیسلی نہ آج آتے ہیں؛ نہ کل ہی آتے ہیں زمانہ میں دور ظلمت تھا جب حق و باطل میں کچھ نہ تھی پہچان جو عشق میں کامل تھے؛ ہوئے یار پہ قرباں تکمیل ہوئی بن گئے معیار محبت جب وقت مصائب کی صورت؛ جب تاریکی تاریکی چھا چھا جاتی ہے؟ اک بندے کو دکھلاتا ہے کا بادل گھر آتا ہے یاس کا دریا چڑھ ھتا ہے؛ جب آنکھیں بھر بھر آتی ہیں؟ اُمید میں ڈوبی جاتی ہیں دل اُس میں غوطے کھاتا ہے جب ناؤ بھنور میں گھرتی ہے؟ چکتے ہیں؟ حیلے نظر میں پھرتی ہے انساں بے بس ہو ہے سینے میں گھٹتا ہے؛ جینا کڑوا لگتا ہے؛ جب دل میں ہوکیں اُٹھتی ہیں لان مل ملاب مرنا دل کو بھاتا جب ہے جب بڑے بڑے جی چھوڑتے ہیں؛ اس وقت بس ایک مسلماں ہے؛ جاں دینے کو سر پھوڑتے ہیں جو صبر کی شان دکھاتا ہے والے؛ جب اس کے پیچھے پڑتے ہیں؟ جب دنیا میں بیداری دین غافل سوتے ہیں جاری کاروبار تو اس کو بالکل کھوتے ہیں جہاں ؛ دن کاموں میں گٹ جاتا ہے؟ دل میں خیال میں خیال یار نہاں راتوں کو اُٹھ کر روتے ہیں جب باپ کی جھوٹی غیرت کا خوں؛ جس طرح جنا ہے سانپ کوئی؛ جوش میں آنے لگتا تھا تیری گھبراتی تھی یوں ماں ١١٩ ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۱