بیت بازی

by Other Authors

Page 84 of 871

بیت بازی — Page 84

84 ۱۹۶ ۱۹۷ ۱۹۸ ۲۰۰ ۲۰۱ ۲۰۲ ۲۰۴ ۲۰۵ ۲۰۶ تیرے اس حال بد کو دیکھ کر قوم! جگر ٹکڑے ہے؛ اور دل خوں فشاں ہے پیر مغاں ہے ترقی احمدی فرقہ کی دیکھے بٹالہ میں جو اک تیرا ہر ہر لفظ؛ اے پیارے مسیحائے زماں! حق کے پیاسوں کیلئے؛ آب بقا ہو جائے گا ۱۹۹ تیرے جاتے ہی؛ تیرا خیال چلا آتا ہے تیرے جانے میں بھی؛ آنے کا تماشا دیکھا تیری آنکھوں میں ہے دیکھی ملک الموت کی آنکھ ہم نے ہاتھوں میں ترے؛ قبضہ قضا کا دیکھا تیری غصہ بھری آنکھوں کو ؛ جو دیکھا میں نے ٹور کی آنکھ میں؛ دوزخ کا نظارہ دیکھا تو تو ہنستا ہے؛ مگر روتا ہوں میں اس فکر میں وہ ہیں اس دنیا سے اک دنیا کے اُٹھ جانے کے دن تاج اقبال کا سر پر ہے مزین تیرے نصرت و فتح کا اُڑتا ہے؛ ہوا میں پرچم تیرے ہاتھوں سے ہی دجال کی ٹوٹے گی کمر شرک کے ہاتھ ؛ ترے ہاتھ سے ہی ہو دیں گے قلم تب انہیں ہوگی خبر ؛ اور کہیں گے بیہات ہم تو کرتے رہے ہیں اپنی ہی جانوں پر ستم تیری سچائی کا دنیا میں بجے گا ڈنکا بادشاہوں کے تیرے سامنے ہوں گے سرخم تیرے اعداء جو ہیں؛ دوزخ میں جگہ پائیں گے پر جگہ تیرے مُریدوں کی تو ہے باغ ارم تم کہتے ہو؟ امن میں ہیں ہم، اور منہ کھولے ہوئے کھڑی ہکلا ہے مقدر قسمت میں تمھاری زلزلہ ہے تم اب بھی نہ آگے بڑھو، تو غضب ہے کہ دشمن ہے بے گس؛ تمھارا خُدا ہے تری عقل کو قوم! کیا ہوگیا ہے اُسی کی ہے بد خواہ؛ جو رہنما ہے تمام دنیا میں تھا اندھیرا کیا تھا ظلمت نے یاں بسیرا ہوا ہے جس سے جہان روشن وہ معرفت کا یہی دیا ہے لطف و فضل تم پہ اسی مہربان کا ۲۰۷ ۲۰۸ ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۵ تقدير ہو چکا ہو ہے ہاں ! گفر ہے تم امتِ محمد خیر الرسل سے ۲۱۴ توحید کا سبق ہی جو تعلیم شرک ہے بتانا ؛ اگر حق بیان کا تو ایسے شرک پر ہوں فدا؛ مال و آبرو اور ایسا کفر روگ بنے؟ میری جان کا تسکین وہ میرے لیے؛ بس اک وجود تھا تم جانتے ہو؛ اس سے بھی اب تو جُدا ہوں میں تیرے یوسف کا مجھے خُوب پتا ہے؛ اے دل! کوئی دن اور کنوئیں تجھ کو جھنکالوں تو کہوں ۲۱۶ ۲۱۷