بیت بازی

by Other Authors

Page 85 of 871

بیت بازی — Page 85

85 ΓΙΑ ۲۲۰ ۲۲۱ تقویٰ ٹی کی جڑ یہی ہے؛ کہ خالق سے پیار ہو گو ہاتھ کام میں ہوں؛ مگر دل میں یار ہو ۲۱۹ تو تو واں جنت میں خوش اور شاد ہے ان غریبوں کی خبر کو آئے کون مجھ سے تھی ہم کو تسلی ہر گھڑی کو تسلی ہر گھڑی تیرے مرنے تیرے مرنے پر ہمیں بہلائے کون تڑپ ہے دین کی مجھ کو؛ اُسے دنیا کی لالچ ہے مخالف پر ہمیشہ میں تبھی منصور رہتا ہوں تنگ ہوں اس بے وفا دنیا سے میں مجھ کو یارب! خواهش دیدار ہے تیرے چاکر ہوں ہم پانچوں الہی ! ہمیں طاقت عطا کر تو وفا کی ۲۲۴ تری خدمت میں پائیں جان و دل کو گھڑی جب چاہے آجائے قضا کی تیرے دن زندگی کا کچھ نہیں لطف ہمارے ساتھ پیارے! ہر زماں ہو ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۵ ۲۲۶ ۲۲۷ ۲۲۸ ۲۲۹ تجھے جس راہ سے لوگوں نے پایا وہ راز معرفت ہم پر عیاں ہو تم پہ کھولے جائیں گے جنت کے دروازے یہیں تم پہ ہو جائیں گے سب اسرار قدرت آشکار تشنگی بڑھتی گئی؛ جتنا کیا دُنیا سے پیار پانی سمجھے تھے جسے؛ وہ تھا حقیقت میں سراب تیرا در چھوڑ کر کہاں جائیں کس سے جا کر طلب کریں امداد پہ ہے فرض نصرت اسلام تجھے واجب ہے دعوت و ارشاد ۲۳۱ ترا تو دل ہے صنم خانہ پھر تجھے کیا نفع اگر زباں سے کہا؛ لَا إِلهَ إِلَّا الله تغافل ہو چکا صاحب ! خبر لیجے نہیں تو پھر کوئی دم میں یہ سُن لو گے؛ فلاں کی نعش جاتی ہے ۲۳۰ تجھ ۲۳۲ ۲۳۳ ۲۳۴ ۲۳۵ ۲۳۶ ۲۳۷ ہے تری رہ میں بچھائے بیٹھے ہیں دل مدتوں سے ہم سواری؛ دیکھئے آب در با! کب تیری آتی محبت کے جرم میں ہاں؛ تو اس کو جانیں گے مین راحت؟ جو میں بھی ڈالے جائیں گے ہم نہ دل میں کچھ خیال لا ئینگے ہم تری تم مدیر ہو، کہ جرنیل ہو؛ یا عالم ہو ہم نہ خوش ہوں گے کبھی ، تم میں گر اسلام نہ ہو رام نہ ہو تم نے دنیا بھی جو کی فتح تو کچھ بھی نہ کیا نفس وحشی و جفا کیش؛ اگر تم نے منہ پھیر لیا؟ اُن کے اُلٹتے ہی نقاب کیا یہ ممکن ہے؛ کہ دلبر کی بھی پہچان نہ ہو ۲۳۸ تاک میں لشکر محمود ابھی بیٹھا ہے ہاں! سمجھ کر ذرا ناقوس بجائے کوئی