بیت بازی

by Other Authors

Page 83 of 871

بیت بازی — Page 83

83 ۱۷۵ 122 ۱۷۹ تو ۱۸۰ تھا اک کرشمہ پیہم ترا دل بیمار دیکھایا ہوگا کسی دل نے ایسا کم اعجاز ۱۷۶ تو روٹھ کے اُمیدوں کا دل توڑ گیا ہے اے میری اُمنگوں کے سہاروں کے سہارے! تم جن کا وسیلہ تھیں؛ وہ روتی ہیں، کہ تم نے دم توڑ کے؛ توڑے ہیں ہزاروں کے سہارے تمہارا چہرہ بُرا تو نہیں؛ نہا دھو کر کبھی تو حسن شرافت نکھار کر دیکھو اپنے حسیں خوابوں کی تعبیر بھی دیکھے اک تازہ نئی صبح کی تنویر بھی دیکھے تم نے بھی مجھ سے تعلق کوئی رکھا ہوتا کاش! یوں ہوتا تو میں اتنا نہ تنہا ہوتا تجھ میں تھیں جو چشم ہائے کر ؛ رحمت علی سے بہرہ ور آج بھی ہیں اُن میں سے کئی نرگسی خصال دیدہ ور تیری سرز میں کی خاک سے ؛ مثلِ آدم اولیاء اُٹھے پھر انہی کی خاک پاک سے بے شمار باخدا اُٹھے ۱۸۳ تحفہ خلوص لایا ہوں، تجھ پہ بھیجتا ہوا سلام نفرتوں کا میں نہیں نقیب، صلح و آشتی کا ہوں پیام تیرا سر ہے تاجدار حسن ؛ خاک پا ہے سبزہ زار حسن ہر حسین کوہسار سے؛ پھوٹتی ہے آبشار حسن ۱۸۵ تیرے لئے ہے آنکھ کوئی اشکبار دیکھ نظریں اُٹھا؛ خدا کیلئے، ایک بار دیکھ ۱۸۶ تو مجھ سے آج وعده ضبط الم نہ لے ان آنسوؤں کا کوئی نہیں اعتبار دیکھ ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۴ زارحسن 1^2 تھا وہ تعبیر میرے خوابوں کی یا ہیولی سا خواب کا سا تھا کلام محمود ۱۸۸ ۱۸۹ 19۔191 تیری رضا کا ہوں میں طلب گار ؛ ہر گھڑی گر یہ ملے تو جانوں؛ کہ سب کچھ ملا مجھے تیرا دلدادہ ہو؛ دیں پر ہو فدا ہو عاشق احمد مختار کا تا کہ انصاف کے پانے میں نہ ہو کچھ وقت مُنصفوں اور بچوں تک کی بھی؛ کی ہے کثرت تھا مسیحا بھی تو پیدائش وقت قیصر زندگی چھوٹے بڑے چین سے کرتے تھے بئر ۱۹۲ تجھ پہ رحمت ہو خدا کی؛ کہ مسیحا تو نے رشته ألفت و وحدت میں ہے باندھا ہم کو تجھ پہ ہم کیوں نہ کمر میں اے مرے پیارے کہ ہے تو دولت و آبرو و جان سے تاریکی و جهالت و جہالت و ظلمت کدھر گئی دنیا سے آج ان کا ہوا کیوں ہے گم نشاں ۱۹۳ ۱۹۴ پیارا ہم کو ۱۹۵ تڑپ رہی ہے میری روح جسم خاکی میں تیرے ہوا مجھے اک دم بھی اب قرار نہیں