بیت بازی — Page 81
81 ۱۴۰ تیرے وجود کی ہوں میں وہ شارخ باشمر جس پر ہر آن رکھتا ہے رب الوریٰ نظر تو مشرقی، نہ مغربی؛ اے نورشش جہات تیرا وطن عرب ہے؟ نہ تیرا وطن عجم ۱۴۲ تو نے مجھے خرید لیا؛ اک نگہ کے ساتھ اب تو ہی تو ہے؛ تیرے سوا میں ہوں کالعدم تیرا ہی فیض ہے؛ کوئی میری عطا نہیں ایس چشــمــه روان کـه بـخـلـق خـدا دهم" تب آئے وہ ساقی کوثر ، مست مئے عرفان پیمبر پیر مغان باده اطہر کے نوشوں کی عید بنانے ۱۳۴۵ تو میرے دل کا نور ہے؛ اے جانِ آرزو! روشن تجھی سے آنکھ ہے؛ اے نیئر ہدی! ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۶ ۱۴۷ ۱۴۸ ۱۵۰ ۱۵۱ توڑ دیا ظلمات کا گھیرا؛ دُور کیا ایک ایک اندھیرا جاء الحق وزهق الباطل ان الب ـــل كـــــــــان زهـــــوقــــــــا احمدیت تاریکی پر تاریکی؛ گمراہی پر گمراہی ابلیس نے کی ابلیس نے کی اپنے لشکر کی صف آرائی تیرا غلام در ہوں؛ ترا ہی اسیر عشق تو میرا بھی حبیب ہے؛ محبوب کبریا ۱۴۹ تشنہ لبوں کی خاطر ہرسمت گھومتے ہیں تھامے ہوئے سبوئے گلفام تب آیا اک منادی؛ اور ہر طرف صدا دی آؤ! کہ ان کی زد سے اسلام کو بچائیں تبلیغ احمدیت؛ دنیا میں کام اپنا دارالعمل ہے گویا عالم تمام اپنا تم دعائیں کرو، یہ دعا ہی تو تھی؟ ازل سے یہ تقدیر نمرودیت جس نے توڑا تھا سر کمر نمرود کا آپ ہی آگ میں اپنی جل جائیگی ۱۵۳ تو تو ایسا نہیں محبوب کوئی اور ہوں گے وہ جو کہلاتے ہیں؛ دل توڑ کے جانے والے بار سر رہ سے پلٹ آتا ہے دل میں ہر سمت سے پل پل میرے آنے والے تمہاری خوشیاں جھلک رہی ہیں؟ تمہارے خونِ جگر کی کے سے ہی؟ ۱۵۲ ۱۵۴ تو تو ۱۵۵ ۱۵۶ مرے ہر مقدر ہے کے زائچے میں میرا بھرتا تمہاری خاطر ہیں میرے نغمے تمہارے درد و الم سے مری دعائیں تمہاری دولت میرے سجود و جام کہنا تر ہیں؛ قیام کہنا