بیت بازی

by Other Authors

Page 80 of 871

بیت بازی — Page 80

80 60 119 ۱۲۰ ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷ تڑپا یت بد گهر آسمان را حق بود گر سنگ بارد بر زمین کیلئے کرے نہ اب نہ اب کوئی گلفام کیلئے رونا ہو جس کو؛ روئے وہ اسلام تجھ کو ہمارا کچھ بھی نہیں غم، غضب ہوا بدتر یہودیوں سے ہوئے ہم؛ غضب ہوا تازہ ستم ہے یہ کہ خلافت نہیں رہی سب ملک ہم سے چھن گئے ، شوکت نہیں رہی تازگی آگئی چہروں پہ؟ کھلے جاتے ہیں دل کی حالت کا؛ زباں کر نہیں سکتی اظہار تیرا ہے؟ فہم رتبہ ہے؛ ނ بالا سرنگوں تیری تعریف اور میں ناچیز ہو رہی ہے؛ عقل سلیم گنگ ہوتی ہے یاں زبانِ کلیم ؛ تجھے قتسم تیرے ستار نام کی پیارے! بروئے حشر سوال و جواب جانے دے کلام طاهر تیرا احساس ہے کہ تو نے مجھے گیتوں کیلئے چن لیا ہے کہ میں بنتا رہوں گاتا رہوں گیت ۱۲۸ تو تو مالک ہے، خداوند ہے؛ خالق ہے مرا مجھ سے ناراض نہ ہونا؛ میں تیرا چاکر ہوں ۱۲۹ تو خوں میں نہائے ہوئے ٹیلوں کا وطن ہے گل رنگ شفق؛ قرمزی جھیلوں کا وطن تم سچے؟ تو جگ میں کون رہا جھوٹا ہم جھوٹے؛ تو سچا سچا کون رہا ہوگا تنگ آئے ہیں روز کی بگ بگ جھک جھک سے کر گزرو؛ جو کچھ تم نے کرنا ہوگا ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۶ تم پر بھی تو ایک عدالت بیٹھے گی تم میں اگر ہے اچھا ایک ہزار بُرے ہے جیسا کیا ہے؛ ویسا ہی بھرنا ہوگا ہم میں ایک بُرا؛ تو ہزار اچھا ہوگا توحید کے پرچارک ؛ مرے مُرشد کا نام محمد ہے ہے بات یہی برحق ؛ میرے مرشد کا نام محمد ہے ۱۳۵ توڑ دیتیں ڈالیاں؛ آتا نہ کچھ ان کو خیال آپ تو داڑھی منڈا کر؛ بچ گئے ہیں بال بال تب عرش معلی سے اک ٹور کا تخت اُترا اک فوج فرشتوں کی ہمراہ سوار آئی تیرے جلو میں ہی میرا اُٹھتا ہے ہر قدم چلتا ہوں خاک پا کو تیری چومتا ہوا تو وہ؛ کہ میرے دل سے جگر تک اتر گیا میں وہ کہ میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا ۱۳۹ تیرے حضور نہ ہے میرا زانوے ادب میں جانتا نہیں ہوں کوئی پیشوا دگر ۱۳۷ ۱۳۸