بیت بازی

by Other Authors

Page 82 of 871

بیت بازی — Page 82

82 ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۵۹ ۱۶۱ ۱۶۲ ۱۶۳ ۱۶۵ ۱۶۶ ۱۶۷ ۱۶۸ ۱۶۹ 121 تمہیں مٹانے کا زعم لے کر؛ ہیں جو خاک کے بگولے اُٹھے خدا اُڑا دے گا خاک اُن کی؟ کرے گا رسوائے وہ عام کہنا کیا؛ چلے آئے، میں نے جو آواز دی؛ کریں پر شکستہ پر تم کو مولیٰ نے توفیق پرواز دی جو پڑے رہ گئے پشمک دُشمناں کیلئے جور و جفا کی نگری؛ ہے مجھے عیاں؛ صبر و وفا کے دیس سے آیا ہے مرے پیاروں پر غیروں نے ستم جو ڈھایا ہے تو میرے دل کی شش جہات بنے اک نئی میری کائنات معاملات بنے بنے تو میرے دل کے کھیتوں میں؛ تیرے منہ کے سنگ سہانے بول دل کے بھاری دُور دُور کے دیسوں قافله قافله آؤ تیری راہوں میں کیا کیا ابتلا روزانہ آتا سے؛ گے پھولیں گی فصلیں سرسوں کی ہے وفا کا امتحاں لینا تجھے کیا کیا نہ آتا ہے - تصور ان دنوں جس رہ سے بھی ربوہ پہنچتا ہے تعجب ہے کہ ہر اُس راہ پر ننکانہ آتا ہے تم اُٹھے ہو؟ تو لاکھ اُجالے اُٹھے تم چلے ہو؛ تو برق گام چلو تم وابسته سے ہے جہان کو تمہیں سونپی گئی زمام؛ چلو تم نے مری جلوت میں نئے رنگ بھرے ہیں تم نے میری تنہائیوں میں ساتھ دیا ہے تم چاندنی راتوں میں مرے پاس رہے ہو تم سے ہی میری نظرئی صُبحوں میں ضیا ہے تجھ پر میری جان نچھاور ؛ اتنی ر کر پا، اک پانی پر جس کے گھر نارائن آیا؛ وہ کیڑی سے بھی کمتر تھا ۱۷۰ تیری بے حساب بخشش کی گلی گلی بدا دوں یہ نوید تیرے چاکر گنہگار تک تو پہنچے تم وہی ہو؟ تو کرو کچھ تو مداوا غم کا جن کے تم چارہ تھے؛ وہ درد تو سارے ہیں وہی تم نے جاتے ہوئے پلکوں پہ سجا رکھے تھے جو گہر ؛ اب بھی مری آنکھوں کے تارے ہیں وہی ۱۷۳ تیری بقا کا سفر تھا قدم قدم اعجاز بدن سے سانس کا ہر رشتہ؛ دم بہ دم اعجاز ۱۷۴ ترا فنا کے افق سے پلٹ پلٹ آنا دُعا کے دوش پر نبضوں کا زیر و بم اعجاز ۱۷۲