بیت بازی — Page 79
79 ۹۸ تیرا پایہ تو بس یہی پایا تیرے پانے ہی ؛ خدا ۹۹ تو مد بینہ ہے علیم اکمل کا تیرا سینہ ہے مهبط قرآن ۱۰۲ ۱۰۰ تیرے ملنے سے ملا ہم کو وہ مقصود حیات تجھ کو پا کر؛ ہم نے پایا کام دل آرامِ جاں تشنہ روحیں ہو گئیں سیراب تیرے فیض سے علم و عرفان خداوندی کے بحر بیکراں تو وہ آئینہ ہے؛ جس نے منہ دکھایا یار کا جسم خاکی کو عطا کی روح؛ اے جانِ جہاں! ۱۰۳ تا قیامت جو رہے تازہ؛ تیری تعلیم ہے تو ہے روحانی مریضوں کا طبیب جاوداں ۱۰۴ تو نے مجموع دو عالم ' کو پریشاں کر دیا عاشقوں کو تو نے سرگرداں و حیراں کردیا ۱۰۵ تیرے جلووں نے بہت ذرے کئے خورشید وار خاک کی چٹکی کو مثل ماہ تاباں کردیا ۱۰۶ تیرے ذائر ہیں تیرے اعجاز کے منت پذیر واپسی کے چن دئے دَر؛ دخل آساں کر دیا تیری خوں خواری مسلّم ہے آپ عشق شدید خود تو کافر؛ مگر ہم کو مسلماں کردیا 1+2 ۱۰۸ 1+9 11۔۱۱۲ ۱۱۳ ۱۱۴ تسخير خلق، خُلق و محبت سے تم کرو تیرے دل میں میرا ظہور ہے ترائر ہی خودسر طور ہے ہر ایک ہے خلوص و محبت نصیب ہو تیری آنکھ میں مر انور ہے، مجھے کون کہتا ہے دُور ہے مجھے دیکھتا جو نہیں ہے تو ، یہ تری نظر کا قصور ہے تمہیں سلام و دعا ہے نصیب صبح و مسا جوار مرقدِ شاہ زماں میں رہتے ہو تمہارے دم سے؛ ہمارے گھروں کی آبادی تمہاری قید صدقے ہزار آزادی تجھ کو تیرا ہی واسطہ پیارے! میرے پیاروں کو دے شفا پیارے! تو چاہے اگر خاک کی چٹکی میں شفا دے ہر ذرہ ناچیز کو اکسیر بنا دے تسکین دل و راحتِ جاں مل ہی نہ سکتی آلام زمانہ سے اماں مل ہی نہ سکتی ۱۵ تقدیر یہی ہے؛ تو یہ تقدیر بدل دے تو مالک تحریر ہے؟ تحریر بدل دے تری نصرت سے ساری مشکلیں آسان ہو جائیں ہزاروں رحمتیں ہوں؛ فضل کے سامان پیدا کر ترے سامنے ہاتھ پھیلا رہی ہوں میری شرم رکھ؛ میری جھولی بھرا دے ۱۱۸ تجھ کو روحانی خزائن ہیں مسیحا سے ملے دونوں ہاتھوں سے لگا اے صاحب جود و سخا 112