بیت بازی — Page 72
72 پھر عقل کا دامن چھٹتا ہے؛ کہتے ہیں دنیا سے؛ پھر وحشت جوش میں آتی ہے چھیڑو میرے دیوانے کو ۱۹۸ ۱۹۹ ۲۰۱ ۲۰۲ ۲۰۴ ۲۰۶ ۲۰۷ ۲۰۸ پہاڑوں کو اُس نے ہی اُونچا کیا ہے سمندر کو اُس نے ہی پانی دیا ہے ۲۰۰ پھر میرے سر میں لگے اُٹھنے خیالات بنوں فته محشر میرے دل میں بپا ہونے کو ہے پھر مری شامت کہیں لے جا رہی ہے کھینچ کر کیا کوئی پھر مائل جور و جفا ہونے کو ہے پھر کسی کی تیغ ابرو اُٹھ رہی ہے بار بار پھر میرا گھر؛ موردِ کرب و بلا ہونے کو ہے پھر بہا جاتا ہے آنکھوں سے میری اک سیل اشک پھر مرے سینہ میں اک طوفاں بپا ہونے کو ہے پھر چھٹا جاتا ہے ہاتھوں سے مرے دامانِ صبر نالہ آہ و فغاں کا باب وا ہونے کو ہے ۲۵ پر تجھے کیا محل شکوہ ہے یار کے پاس؛ اُس کا یار گیا پانی کر دے علوم قرآں کو گاؤں گاؤں میں ایک رازگی بخش پائے اقدس کو چوم لوں بڑھ کر مجھ کو تو ایسی پاک بازی بخش پلائے تو اگر مجھ کو ، تو میں اتنی پیوں ساقی رہوں تاکثر قدموں پر ترے، میں سر نگوں ساقی بتاؤ غریبوں کو بھی پوچھا ہے کسی نے؟ پیدائش جہاں کی غرض؛ بس یہی تو بگڑا کرے کوئی تو بنایا کرے کوئی پیٹ کے دھندوں کو چھوڑ ؛ اور قوم کے فکروں میں بیڑ ہاتھ میں شمشیر لے؛ عاشق نہ بن ، کف گیر کا پہلے تو دل نے دکھائی؛ خودسری بے انتہا رفته رفته پھر یہ سرگش بھی مسلماں ہو گیا پھر ناف میں دنیا کی؛ تیرا گاڑ دیں نیزہ پھر پرچم اسلام کو عالم میں اُڑائیں پھینکتے رہتے ہیں اعداء میرے کپڑوں پر گند تو نے دی مجھے کو وہ نکہت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں پر یقیں مفقود ہے؟ ایمان ہے بالکل ہی خام علم و عرفاں کی غذا؛ اُن پر ہے قطعاً ہی حرام ۲۱۶ پر مسلماں راستہ پر؛ محو حیرت ہے کھڑا کہہ رہا ہے اُس کو ملا ؛ اک قدم آگے نہ چل پڑ جائے ایسی نیکی کی عادت؛ خُدا کرے سرزد نہ ہو کوئی بھی شرارت؛ خُدا کرے ۲۱۸ پھیلاؤ سب جہان میں ؛ قول رسول کو حاصل ہو شرق و غرب میں سطوت ؛ خُدا کرے ۲۰۹ ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۵ ۲۱۷ پرستاران زرا تو ہے