بیت بازی — Page 71
71 122 ۱۸۰ ۱۸۱ ۱۸۲ ۱۸۴ پیاس میری نہ بجھی گر ؛ تو مجھے کیا اس سے چشمہ فیض و عنایات؛ اگر جاری ہے پیٹھ میدان ونا میں؛ نہ دکھائے کوئی منہ پہ یا عشق کا پھر نام؛ نہ لائے کوئی ۱۷۹ پردہ زُلف دوتا رخ سے ہٹالے پیارے! ہجر کی موت سے؛ لله بچالے پیارے! پردہ غیب سے امداد کے ساماں کر دے سب کےسب بوجھ مرے آپ اُٹھالے پیارے! پہلی اینٹوں پر ہی رکھتے ہیں، نئی اینٹیں ہمیش ہے تبھی چرخ چہارم پر بنائے قادیاں پھیر لو جتنی جماعت ہے میری بیعت میں باندھ لو ساروں کو تم ؛ مکروں کی زنجیروں میں ۱۸۳ پھر بھی مغلوب رہو گے؛ میرے تایومُ البحث ہے یہ تقدیر؛ خداوند کی تقدیروں سے پھر ایسی کچھ نہیں پر وا؛ کہ دُکھ ہو یا کہ راحت ہو رہو دل میں میرے گر عمر بھر تم ؛ مدعا ہو کر پل بھر میں میل سینکڑوں برسوں کی دھل گئی صدیوں کے بگڑے؛ ایک نظر میں سدھر گئے ۱۸۲ پُر کر گئے فلاح سے جھولی مراد کی دامان آرزو کو؛ سعادت سے بھر گئے پر تم یونہی پڑے رہے؛ غفلت میں خواب کی دیکھا نہ آنکھ کھول کے؛ ساتھی کدھر گئے پر صُورتِ احوال انہیں جا کے بتا تُو شاهان چه عجب گر بنوازند گدا را ۱۸۹ پوچھو جو اُن سے؛ زُلف کے دیوانے کیا ہوئے فرماتے ہیں؛ کہ میری بلا جانے کیا ہوئے پڑ گئی جس پہ نظر ہو گیا مدہوش وہی میرے دلدار کی آنکھیں ہیں؛ کہ تم خانے دو پہنچائیں در پہ یار کے؛ وہ بال و پر کہاں دیکھے جمال یار جو ایسی نظر کہاں پھر مٹے جاتے ہیں؛ ہر قسم کے دُنیا سے فساد عقل پھر تابع الہام ہوئی جاتی ہے ۱۸۵ TAY ۱۸۸ ١٩٠ ۱۹۱ ۱۹۲ ۱۹۳ ۱۹۴ ۱۹۵ ۱۹۶ پس اے میرے عزیزو! میرے بچو! دل و جاں سے؛ اسے محبوب رکھو پتے پتے کے پاس جا کر میں سونگھتا تھا وے م کنعاں پڑھ چکے احرار؛ بس اپنی کتاب زندگی ہو گیا پھٹ کر ہوا؛ اُن کا حُباب زندگی زندگی پڑ رہی ہیں اُنگلیاں ارباب حل و عقد کی بج رہا ہے اس طرح؛ ان کا رُباب ۱۹۷ پھر میری خوش قسمتی سے جمع ہیں ابر و بہار جام اک بھر کر پلا دے؛ ہاں پلا دے آج تُو